اردو شاعری میں علامت کربلا

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

محمد علی جوہرؔ

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

افتخار عارف

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو

سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

عباس تابش

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

پروین شاکر

ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے

کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی

دل ہے پیاسا حسین کے مانند

یہ بدن کربلا کا میداں ہے

محمد علوی

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا

جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

مجید امجد

کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں

نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا

وحید اختر

ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا

دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

شکیب جلالی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش

رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

محمد رفیع سودا

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر

اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

محسن احسان

عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ

عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

مرزا غالب

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں

کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

منیر نیازی

جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو

قائم رہو حسین کے انکار کی طرح

احمد فراز

حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں

مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

شہریار

سانس لیتا ہوں تو روتا ہے کوئی سینے میں

دل دھڑکتا ہے تو ماتم کی صدا آتی ہے

فرحت عباس شاہ

تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو

یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا

عرفان صدیقی

ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آ گئی

وہ اک دیا بجھا تو سینکڑوں دئیے جلا گیا

احمد فراز

سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھے

کیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے

مومن خاں مومن

مصحفیؔ کرب و بلا کا سفر آسان نہیں

سینکڑوں بصرہ و بغداد میں مر جاتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی
بولیے