انجن، کیمپ اور توپ: اکبر کی شاعری میں سامراجی علامتیں
اکبر الٰہ آبادی اردو کے وہ واحد شاعر ہیں جنھوں نے جدید مغربی ایجادات جیسے ریل، انجن اور توپ کو محض اشیاء کے طور پر نہیں، بلکہ نوآبادیاتی طاقت اور تہذیبی تسلط کی علامتوں کے طور پر برتا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے دیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نے اول یہ تھا کہ واقفیت پہ تھا ناز آخر یہ کھلا کہ کچھ نہ جانا ہم نے
اکبر الٰہ آبادی اردو کے وہ واحد شاعر ہیں جنھوں نے جدید مغربی ایجادات جیسے ریل، انجن اور توپ کو محض اشیاء کے طور پر نہیں، بلکہ نوآبادیاتی طاقت اور تہذیبی تسلط کی علامتوں کے طور پر برتا۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں اکبر الٰہ آبادی محض ایک رجعت پسند مزاحیہ شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ برصغیر میں نوآبادیاتی نظام اور سامراجی ہتھکنڈوں کو سمجھنے والے اولین اور عظیم ترین مفکرین میں سے ایک تھے۔