کلیم احمدآبادی کے اشعار
چھیڑتی ہے مجھے آ آ کے مری آزادی
گو میں قیدی ہوں مرے پاؤں میں زنجیر بھی ہے
کچھ نہیں ہے ترے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا
بات ناصح کی ہے لیکن خط تقدیر بھی ہے
-
موضوع : واعظ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اپنا جینا ایک دھوکا اپنا مرنا اک فریب
زندگی سے زندگی کی ترجمانی ہو تو کیا
سرد ہو سکتا نہیں سرگرم انساں کا لہو
حادثات نو بہ نو میں زندگانی ہو تو کیا
کس طرح عشق مجازی کو حقیقی کر لوں
سامنے تو ہے بغل میں تری تصویر بھی ہے
فریب کھائے نہ کیوں کر کسی کا سادہ دل
زمانہ ساز نگاہوں سے آشنا تو نہیں
-
موضوع : فریب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کہیں گری تو ہے بجلی ذرا نظر کیجے
کسی غریب کی پلٹی ہوئی دعا تو نہیں
ہمارا مقصد اول ہے جذب شوق و سر مستی
یہی وہ زندگی ہے جس کو ہم کامل سمجھتے ہیں
-
موضوع : زندگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دہر کی فضاؤں میں کون رقص کرتا ہے
کون کر رہا ہے یوں آپ اپنی رسوائی
-
موضوع : رسوائی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہجوم ناز میں جلوہ فریبیوں کے سوا
کلیمؔ اور کوئی حادثہ ہوا تو نہیں
غم نتیجہ ہے خوشی کی انتہا کا اے کلیمؔ
دل کی اک اک موج موج شادمانی ہو تو کیا
-
موضوع : غم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جانے کیا بھر دی ہیں اس نے اس چمن میں شوخیاں
جو بھی آیا وہ چمن کا رازداں بنتا گیا
سرد آہوں کا تصرف ہو تو سوز دل کہاں
دل سے جو شعلہ اٹھا وہ بھی دھواں بنتا گیا
ستارے توڑ لیے ہم نے زہد و تقویٰ کے
مگر جو حق عبادت تھا وہ ادا نہ ہوا
-
موضوع : عبادت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تمہیں بتاؤ کہ اس دل کا کیا کیا جائے
جو چوٹ کھا کے بھی چوٹوں سے آشنا نہ ہوا
-
موضوع : بے خودی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم تو بیٹھے ہی رہے اپنی اسیری کو لئے
بننے والا کام بے وہم و گماں بنتا گیا
-
موضوع : قید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خود خم و پیچ تجھے راہ کے بتلا دیں گے
تیری ٹھوکر میں ترا سود و زیاں ہے کہ نہیں
-
موضوع : ترغیبی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نعرۂ دار و رسن حادثہ کون و مکاں
خفتہ جانوں کے لئے خواب گراں ہے کہ نہیں
-
موضوع : خواب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ