Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

کلیم احمدآبادی

- 1966

کلیم احمدآبادی کے اشعار

18
Favorite

باعتبار

چھیڑتی ہے مجھے آ آ کے مری آزادی

گو میں قیدی ہوں مرے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

کچھ نہیں ہے ترے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا

بات ناصح کی ہے لیکن خط تقدیر بھی ہے

اپنا جینا ایک دھوکا اپنا مرنا اک فریب

زندگی سے زندگی کی ترجمانی ہو تو کیا

سرد ہو سکتا نہیں سرگرم انساں کا لہو

حادثات نو بہ نو میں زندگانی ہو تو کیا

کس طرح عشق مجازی کو حقیقی کر لوں

سامنے تو ہے بغل میں تری تصویر بھی ہے

فریب کھائے نہ کیوں کر کسی کا سادہ دل

زمانہ ساز نگاہوں سے آشنا تو نہیں

کہیں گری تو ہے بجلی ذرا نظر کیجے

کسی غریب کی پلٹی ہوئی دعا تو نہیں

ہمارا مقصد اول ہے جذب شوق و سر مستی

یہی وہ زندگی ہے جس کو ہم کامل سمجھتے ہیں

دہر کی فضاؤں میں کون رقص کرتا ہے

کون کر رہا ہے یوں آپ اپنی رسوائی

ہجوم ناز میں جلوہ فریبیوں کے سوا

کلیمؔ اور کوئی حادثہ ہوا تو نہیں

غم نتیجہ ہے خوشی کی انتہا کا اے کلیمؔ

دل کی اک اک موج موج شادمانی ہو تو کیا

جانے کیا بھر دی ہیں اس نے اس چمن میں شوخیاں

جو بھی آیا وہ چمن کا رازداں بنتا گیا

سرد آہوں کا تصرف ہو تو سوز دل کہاں

دل سے جو شعلہ اٹھا وہ بھی دھواں بنتا گیا

ستارے توڑ لیے ہم نے زہد‌ و تقویٰ کے

مگر جو حق عبادت تھا وہ ادا نہ ہوا

تمہیں بتاؤ کہ اس دل کا کیا کیا جائے

جو چوٹ کھا کے بھی چوٹوں سے آشنا نہ ہوا

ہم تو بیٹھے ہی رہے اپنی اسیری کو لئے

بننے والا کام بے وہم و گماں بنتا گیا

خود خم و پیچ تجھے راہ کے بتلا دیں گے

تیری ٹھوکر میں ترا سود و زیاں ہے کہ نہیں

نعرۂ دار و رسن حادثہ کون و مکاں

خفتہ جانوں کے لئے خواب گراں ہے کہ نہیں

Recitation

بولیے