- کتاب فہرست 180745
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1140
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6698افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4880
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1211
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
غضنفر
افسانہ 21
خاکہ 1
اشعار 13
ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گا
خوابوں کا یہ شوق ہمیں ویرانی دے کر جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دفتر میں ذہن گھر پہ نگہ راستے میں پاؤں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوں
ہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
نہ جانے کس طرح بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی ہیں
وہ آوازیں جنہیں ہم روز باہر چھوڑ آتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 14
نظم 16
کتاب 35
تصویری شاعری 1
اپنی نظر میں بھی تو وہ اپنا نہیں رہا چہرے پہ آدمی کے ہے چہرہ چڑھا ہوا منظر تھا آنکھ بھی تھی تمنائے_دید بھی لیکن کسی نے دید پہ پہرہ بٹھا دیا ایسا کریں کہ سارا سمندر اچھل پڑے کب تک یوں سطح_آب پہ دیکھیں_گے بلبلہ برسوں سے اک مکان میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ لیکن ہمارے بیچ زمانوں کا فاصلہ مجمع تھا ڈگڈگی تھی مداری بھی تھا مگر حیرت ہے پھر بھی کوئی تماشا نہیں ہوا آنکھیں بجھی بجھی سی ہیں بازو تھکے تھکے ایسے میں کوئی تیر چلانے کا فائدہ وہ بے_کسی کہ آنکھ کھلی تھی مری مگر ذوق_نظر پہ جبر نے پہرہ بٹھا دیا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
