Bismil Azimabadi's Photo'

بسمل  عظیم آبادی

1901 - 1978 | پٹنہ, ہندوستان

عظیم آباد کے نامور شاعر، مشہور زمانہ شعر ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے / دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘ کے خالق

عظیم آباد کے نامور شاعر، مشہور زمانہ شعر ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے / دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘ کے خالق

5.57K
Favorite

باعتبار

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے

خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے

ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ

یہ برے دن بھی گزر جائیں گے

مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم

لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق

دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی

جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم

دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار

گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن

پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

ایک دن وہ دن تھے رونے پہ ہنسا کرتے تھے ہم

ایک یہ دن ہیں کہ اب ہنسنے پہ رونا آئے ہے

سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر

گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر

بسملؔ بتوں کا عشق مبارک تمہیں مگر

اتنے نڈر نہ ہو کہ خدا کا بھی ڈر نہ ہو

چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے

چمن رہا نہ رہے وہ چمن کے افسانے

یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہوئی بسملؔ

نہ رو سکے نہ کبھی ہنس سکے ٹھکانے سے

کہاں قرار ہے کہنے کو دل قرار میں ہے

جو تھی خزاں میں وہی کیفیت بہار میں ہے

آزادی نے بازو بھی سلامت نہیں رکھے

اے طاقت پرواز تجھے لائیں کہاں سے

کس حال میں ہو کیسے ہو کیا کرتے ہو بسملؔ

مرتے ہو کہ جیتے ہو زمانے کے اثر سے

کہاں تمام ہوئی داستان بسملؔ کی

بہت سی بات تو کہنے کو رہ گئی اے دوست

داستاں پوری نہ ہونے پائی

زندگی ختم ہوئی جاتی ہے

یہ کہہ کے دیتی جاتی ہے تسکیں شب فراق

وہ کون سی ہے رات کہ جس کی سحر نہ ہو

اک غلط سجدے سے کیا ہوتا ہے واعظ کچھ نہ پوچھ

عمر بھر کی سب ریاضت خاک میں مل جائے ہے

خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے

چمن والوں کو نیند آتی نہیں ہے

غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا

بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

کیا کریں جام و سبو ہاتھ پکڑ لیتے ہیں

جی تو کہتا ہے کہ اٹھ جائیے مے خانے سے

ہنسی بسملؔ کی حالت پر کسی کو

کبھی آتی تھی اب آتی نہیں ہے

اگل نہ سنگ ملامت خدا سے ڈر ناصح

ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے

رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں

لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

بیابان جنوں میں شام غربت جب ستایا کی

مجھے رہ رہ کر اے صبح وطن تو یاد آیا کی