- کتاب فہرست 177710
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1580 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4284 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6588افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5849-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4839
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ماہر القادری کے اشعار
ماہر القادرییہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
ماہر القادریعقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
ماہر القادریاک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی
EXPLANATION #1
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔
شفق سوپوری
ماہر القادرییہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی
ماہر القادریابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں
انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی
ماہر القادریاگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے
جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود
ماہر القادرینقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے
وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے
ماہر القادریپروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے
ماہر القادریسناتے ہو کسے احوال ماہرؔ
وہاں تو مسکرایا جا رہا ہے
ماہر القادرییوں کر رہا ہوں ان کی محبت کے تذکرے
جیسے کہ ان سے میری بڑی رسم و راہ تھی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
