کلیات اقبال اردو

علامہ اقبال

اعتقاد پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی
1981 | مزید
  • معاون

    ریختہ

  • موضوعات

    شاعری

  • صفحات

    720

کتاب: تعارف

تعارف

"کلیات اقبال" ان کے شعری مجموعوں کا اجتماع ہے، جس میں بانگ درا، بال جبریل ، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز (حصہ اردو) کویک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔ اقبال کے قارئین کی کثرت ہند و پاک میں اس قدر ہے کہ بہت کم شعرا کو یہ شرف حاصل ہے۔ کلیات، اقبال کی غزلوں اور نظموں سے بھرپور ہے اور اقبالیات کا ایک نظر میں مطالعہ کرنے کے لئے کافی۔ اقبال یقینا ان شعرا کی فہرست میں آتا ہے جن کو سمجھنا کار آسان نہیں کیوں کہ کہیں پر وہ فطرت کا ترجمان بن کر نمودار ہوتا ہے تو کہیں انقلابی شاعر کی حیثیت سے ہاتھ میں مشعل لئے خوشہ گندم جلانے کی بات کرتا ہے۔ کہیں وہ اسلامیات کا درس دیتا ہے تو کہیں پر اس کی حالت زار کا تمسخر اڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ کہیں پر وہ تصوف کی تعلیم سے لبریز نظر آتا ہے تو کہیں اس سے متنفر۔ کہیں اس کو مغربی تعلیم سے وحشت ہے تو کہیں اس سے محبت۔ کہیں پر وہ ہندوستان کو جنت نشاں کہتا ہے تو کہیں اس کی ویرانی پر ماتم کناں نظر آتا ہے۔ کبھی وہ بچوں کے گیت گاتا ہے تو کہیں عشق کی آخری سرحد پر جاکر کہتا ہے کہ، "ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ۔" اقبال اپنی ہر تخلیق میں ایک نئے رچاو بساو کے ساتھ آتا ہے اور کچھ درس و تدریس کرتا ہے اور قاری کو جھنجھوڑ کر واپس ہو جاتا ہے۔ الغرض اقبال کی شاعری کثیر الجہات موضوعات خود میں پنہا کئے ہوئے ہے۔ اس کا مطالعہ اردو ادب کے طالب عالم کو ہی نہیں بلکہ ہر انسان کو کرنا چاہئے اور ان کی تعلیمات کو برائے کار لاکر ایک نئے جہان کی تخلیق کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

علامہ اقبال

نام محمداقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔ ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:270

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب