والد پر شاعری

والد سے محبت کا جذبہ بھی اتنا ہی قوی ہے جتنا ماں سے محبت کا جذبہ ۔ غزلوں اور شعروں میں جا بہ جا والد یا باپ سے انسیت کی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ ہم کچھ ایسی منتخب شاعری آپ تک پہنچا رہے جس میں والد کو موضوع بنایا گیا ہے اور والد کی شفقت و جانفشانی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہں رہ سکتے ۔ ان اشعار کو پڑھئے اور والد سے محبت کرنے والوں کے درمیان شیر کجئے ۔

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

افتخار عارف

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

قیصر الجعفری

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی

ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب

پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

معراج فیض آبادی

یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں

اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

منور رانا

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا

میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں

نامعلوم

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں

باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں

نامعلوم

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے

یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے

طاہر شہیر

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ

میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

معراج فیض آبادی

جب بھی والد کی جفا یاد آئی

اپنے دادا کی خطا یاد آئی

محمد یوسف پاپا

بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے

پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا

خالد محمود

باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا

اس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے

منظر بھوپالی

ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم

گھر کی دیوار باپ کا سایا

نامعلوم

وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں

میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں

حماد نیازی

ہڈیاں باپ کی گودے سے ہوئی ہیں خالی

کم سے کم اب تو یہ بیٹے بھی کمانے لگ جائیں

رؤف خیر

میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ

اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے

شکیل جمالی

صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے

جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی

حماد نیازی

کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے

کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا

انجم سلیمی

میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ

وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں

رئیس فروغ

میں اپنے باپ کے سینے سے پھول چنتا ہوں

سو جب بھی سانس تھمی باغ میں ٹہل آیا

حماد نیازی

باپ کا ہے فخر وہ بیٹا کہ رکھتا ہو کمال

دیکھ آئینے کو فرزند رشید سنگ ہے

میر محمدی بیدار