noImage

انیس احمد انیس

1940

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے

آخر کو راس آ ہی گئی زندگی مجھے

گوارا ہی نہ تھی جن کو جدائی میری دم بھر کی

انہیں سے آج میری شکل پہچانی نہیں جاتی

کبھی اک بار ہولے سے پکارا تھا مجھے تم نے

کسی کی مجھ سے اب آواز پہچانی نہیں جاتی

طواف ماہ کرنا اور خلا میں سانس لینا کیا

بھروسہ جب نہیں انسان کو انسان کے دل پر

یا رب مرے گناہ کیا اور احتساب کیا

کچھ دی نہیں ہے خضر سی عمر رواں مجھے

ہمیں نے چن لئے پھولوں کے بدلے خار دامن میں

فقط گلچیں کے سر الزام ٹھہرایا نہیں جاتا

ادھر وہ عہد و پیمان وفا کی بات کرتے ہیں

ادھر مشق ستم بھی ترک فرمایا نہیں جاتا

میں وہ رند نو نہیں ہوں جو ذرا سی پی کے بہکوں

ابھی اور اور ساقی کہ میں پھر سنبھل رہا ہوں

وہ اپنے دامن پارہ پہ بھی نگاہ کرے

جہاں میں مجھ پہ اٹھا کر جو انگلیاں گزرے