Ashfaq Husain's Photo'

اشفاق حسین

1951 | کناڈا

کنیڈا میں مقیم اردو کے ممتاز شاعر

کنیڈا میں مقیم اردو کے ممتاز شاعر

475
Favorite

باعتبار

جو خواب کی دہلیز تلک بھی نہیں آیا

آج اس سے ملاقات کی صورت نکل آئی

پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا

تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے

دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ

میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے

تمہیں منانے کا مجھ کو خیال کیا آئے

کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا تو میں بھی ہوں

میں اپنی پیاس میں کھویا رہا خبر نہ ہوئی

قدم قدم پہ وہ دریا پکارتا تھا مجھے

وہ ہو نہ سکا اپنا تو ہم ہو گئے اس کے

اس شخص کی مرضی ہی میں ڈھالے ہوئے ہم ہیں

دن بھر کے جھمیلوں سے بچا لایا تھا خود کو

شام آتے ہی اشفاقؔ میں ٹوٹا ہوا کیوں ہوں

تلاش اپنی خود اپنے وجود کو کھو کر

یہ کار عشق ہے اس میں لگا تو میں بھی ہوں

بہت چھوٹا سا دل اور اس میں اک چھوٹی سی خواہش

سو یہ خواہش بھی اب نیلام کرنے کے لیے ہے

لفظوں میں ہر اک رنج سمونے کا قرینہ

اس آنکھ میں ٹھہرے ہوئے پانی سے ملا ہے

ٹوٹے ہوئے لوگ ہیں سلامت

یہ نقل مکانی کا معجزہ ہے

کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے

میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے

کھل کر تو وہ مجھ سے کبھی ملتا ہی نہیں ہے

اور اس سے بچھڑ جانے کا امکان ہے یوں بھی

دل میں سو تیر ترازو ہوئے تب جا کے کھلا

اس قدر سہل نہ تھا جاں سے گزرنا میرا

کون ہیں وہ جنہیں آفاق کی وسعت کم ہے

یہ سمندر نہ یہ دریا، نہ یہ صحرا میرا