Azm Bahzad's Photo'

عزم بہزاد

1958 - 2011 | کراچی, پاکستان

ممتاز اور مقبول پاکستانی شاعر۔ استاد شاعر بہزاد لکھنؤی کے پوتے

ممتاز اور مقبول پاکستانی شاعر۔ استاد شاعر بہزاد لکھنؤی کے پوتے

عزم بہزاد کے شعر

4.8K
Favorite

باعتبار

کل سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں

چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا

لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں

عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں

عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے

کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے

عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا

سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک

جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے

قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ

یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں

اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو

اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI