Bedam Shah Warsi's Photo'

بیدم شاہ وارثی

1876 - 1936 | بارہ بنکی, ہندوستان

صوفی شاعر ، حمد ونعت کی شاعری کے لئے معروف

صوفی شاعر ، حمد ونعت کی شاعری کے لئے معروف

1.5K
Favorite

باعتبار

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی

بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا

اک مری بے کسی نہیں جاتی

اپنا تو یہ مذہب ہے کعبہ ہو کہ بت خانہ

جس جا تمہیں دیکھیں گے ہم سر کو جھکا دیں گے

جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے

جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئے

قیس لیلیٰ کا ہے لیلیٰ چاہئے

تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے

ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے

اب آدمی کچھ اور ہماری نظر میں ہے

جب سے سنا ہے یار لباس بشر میں ہے

اے جنوں کیوں لیے جاتا ہے بیاباں میں مجھے

جب تجھے آتا ہے گھر کو مرے صحرا کرنا

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

کہ مجھے شکوۂ کوتاہیٔ داماں ہو جائے

بیدمؔ یہ محبت ہے یا کوئی مصیبت ہے

جب دیکھیے افسردہ جب دیکھیے جب مغموم

مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے

تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے

کہاں ایمان کس کا کفر اور دیر و حرم کیسے

ترے ہوتے ہوئے اے جاں خیال دو جہاں کیوں ہو

مرے درد نہاں کا حال محتاج بیاں کیوں ہو

جو لفظوں کا ہو مجموعہ وہ میری داستاں کیوں ہو

طور مجنوں کی نگاہوں کے بتاتے ہیں ہمیں

اسی لیلیٰ میں ہے اک دوسری لیلیٰ دیکھو

برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا

میرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرنا

جس کی اس عالم صورت میں ہے رنگ آمیزی

اسی تصویر کا خاکہ تو یہ انسان بھی ہے

وہ قلقل مینا میں چرچے مری توبہ کے

اور شیشہ و ساغر کی مے خانے میں سرگوشی