پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے

اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں

ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں

میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں

میں صبح خواب سے جاگا تو یہ خیال آیا

جو رات میرے برابر تھا کیا ہوا اس کا

سوچتا کیا ہوں ترے بارے میں چلتے چلتے

تو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے

جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں

میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں

اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا