غزل 6

اشعار 6

پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے

اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں

میں صبح خواب سے جاگا تو یہ خیال آیا

جو رات میرے برابر تھا کیا ہوا اس کا

ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں

میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں

سوچتا کیا ہوں ترے بارے میں چلتے چلتے

تو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے

جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں

میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

آڈیو 5

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI