Ghulam Husain Sajid's Photo'

غلام حسین ساجد

1951 | ملتان, پاکستان

غلام حسین ساجد کی اشعار

999
Favorite

باعتبار

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں

ہم مسافر ہیں گرد سفر ہیں مگر اے شب ہجر ہم کوئی بچے نہیں

جو ابھی آنسوؤں میں نہا کر گئے اور ابھی مسکراتے پلٹ آئیں گے

اگر ہے انسان کا مقدر خود اپنی مٹی کا رزق ہونا

تو پھر زمیں پر یہ آسماں کا وجود کس قہر کے لیے ہے

ایک خواہش ہے جو شاید عمر بھر پوری نہ ہو

ایک سپنے سے ہمیشہ پیار کرنا ہے مجھے

اس کے ہونے سے ہوئی ہے اپنے ہونے کی خبر

کوئی دشمن سے زیادہ لائق عزت نہیں

ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے

ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے

وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں

کبھی محبت سے باز رہنے کا دھیان آئے تو سوچتا ہوں

یہ زہر اتنے دنوں سے میرے وجود میں کیسے پل رہا ہے

حکایت عشق سے بھی دل کا علاج ممکن نہیں کہ اب بھی

فراق کی تلخیاں وہی ہیں وصال کی آرزو وہی ہے

ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے

چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

میری قسمت ہے یہ آوارہ خرامی ساجدؔ

دشت کو راہ نکلتی ہے نہ گھر آتا ہے

کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے

یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو نہیں سکتا

مل نہیں پاتی خود اپنے آپ سے فرصت مجھے

مجھ سے بھی محروم رہتی ہے کبھی محفل مری

جی میں آتا ہے کہ دنیا کو بدلنا چاہئے

اور اپنے آپ سے مایوس ہو جاتا ہوں میں

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں

جان من! میرے بس میں کچھ بھی نہیں

آج کھلا دشمن کے پیچھے دشمن تھے

اور وہ لشکر اس لشکر کی اوٹ میں تھا

میں ہوں مگر آج اس گلی کے سبھی دریچے کھلے ہوئے ہیں

کہ اب میں آزاد ہو چکا ہوں تمام آنکھوں کے دائروں سے

لوٹ جانے کی اجازت نہیں دوں گا اس کو

کوئی اب میرے تعاقب میں اگر آتا ہے

راس آئی ہے نہ آئے گی یہ دنیا لیکن

روک رکھا ہے مجھے کوچ کی تیاری نے

مرے مایوس رہنے پر اگر وہ شادماں ہے

تو کیوں خود کو میں اس کے واسطے برباد کر دوں

اس اندھیرے میں چراغ خواب کی خواہش نہیں

یہ بھی کیا کم ہے کہ تھوڑی دیر سو جاتا ہوں میں

عشق پر اختیار ہے کس کا

فائدہ پیش و پس میں کچھ بھی نہیں

میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا

وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں

یہ سچ ہے مل بیٹھنے کی حد تک تو کام آئی ہے خوش گمانی

مگر دلوں میں یہ دوستی کی نمود ہے راحت بیاں سے

مری وراثت میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی دہر کے لیے ہے

یہ رنگ اک خواب کے لیے ہے یہ آگ اک شہر کے لیے ہے

یہ آب و تاب اسی مرحلے پہ ختم نہیں

کوئی چراغ ہے اس آئنے سے باہر بھی

میں ایک مدت سے اس جہاں کا اسیر ہوں اور سوچتا ہوں

یہ خواب ٹوٹے گا کس قدم پر یہ رنگ چھوٹے گا کب لہو سے

یہ سچ ہے میری صدا نے روشن کیے ہیں محراب پر ستارے

مگر مری بے قرار آنکھوں نے آئنے کا زیاں کیا ہے

جس قدر مہمیز کرتا ہوں میں ساجدؔ وقت کو

اس قدر بے صبر رہنے کی اسے عادت نہیں

کسی نے فقر سے اپنے خزانے بھر لیے لیکن

کسی نے شہریاروں سے بھی سیم و زر نہیں پائے

راس آتی ہی نہیں جب پیار کی شدت مجھے

اک کمی اپنی محبت میں کہیں رکھوں گا میں

نشاط اظہار پر اگرچہ روا نہیں اعتبار کرنا

مگر یہ سچ ہے کہ آدمی کا سراغ ملتا ہے گفتگو سے

تڑپ اٹھی ہے کسی نگر میں قیام کرنے سے روح میری

سلگ رہا ہے کسی مسافت کی بے کلی سے دماغ میرا

متاع برگ و ثمر وہی ہے شباہت رنگ و بو وہی ہے

کھلا کہ اس بار بھی چمن پر گرفت دست نمو وہی ہے