Hafeez Jaunpuri's Photo'

حفیظ جونپوری

1865 - 1918 | جون پور, انڈیا

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

حفیظ جونپوری کے اشعار

5.8K
Favorite

باعتبار

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے

لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

تندرستی سے تو بہتر تھی مری بیماری

وہ کبھی پوچھ تو لیتے تھے کہ حال اچھا ہے

ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنا

اگر کوئی تازہ ستم یاد آئے

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو

اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی

نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

بہت دور تو کچھ نہیں گھر مرا

چلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئے

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ

نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہد

کیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہے

گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا

کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے

مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو

تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب

سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیب

یعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہے

یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں

روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

قید میں اتنا زمانہ ہو گیا

اب قفس بھی آشیانہ ہو گیا

جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے

تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا

زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کی

آیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کی

اس کو سمجھو نہ خط نفس حفیظؔ

اور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض

کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلب

جس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرنا

شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے

تو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سے

زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور

پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا

حال میرا بھی جائے عبرت ہے

اب سفارش رقیب کرتے ہیں

برا ہی کیا ہے برتنا پرانی رسموں کا

کبھی شراب کا پینا بھی کیا حلال نہ تھا

پہنچے اس کو سلام میرا

بھولے سے نہ لے جو نام میرا

ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیا

آئنے نے دوسرا پیدا کیا

جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی

سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی

پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ

صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے

ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی

اپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئی

پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی

کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے

قسم نباہ کی کھائی تھی عمر بھر کے لیے

ابھی سے آنکھ چراتے ہو اک نظر کے لیے

تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے

مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا

جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے

نالے مرے سن لو گے تو فریاد کرو گے

لٹ گیا وہ ترے کوچے میں دھرا جس نے قدم

اس طرح کی بھی کہیں راہزنی ہوتی ہے

کبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں

یاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات

ہم نہ اٹھتے ہیں نہ وہ دیتے ہیں

ہاتھ میں پان ہے کیا مشکل ہے

او آنکھ بدل کے جانے والے

کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا

وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو

ہم کو منت سے عاجزی سے غرض

جو کعبے سے نکلے جگہ دیر میں کی

ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے

جو دیوانوں نے پیمائش کی ہے میدان قیامت کی

فقط دو گز زمیں ٹھہری وہ میرے دشت وحشت کی

مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہد

بظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے