حمزہ حسام کے اشعار
ہم دونوں ایک شہر میں رہنے کے باوجود
ملتے نہیں اگر تو کوئی خاص بات ہے
یہ بچھڑتے وقت کہنا چاہتا تھا صاحبا
میں تمھارے ساتھ رہنا چاہتا تھا صاحبا
وہ چاہتے یہی تھے آج بات ختم ہو
سو بات ختم یوں ہوئی کہ ختم ہو گئی
اس سانولی کو اور کوئی دیکھتا نہ تھا
اس سانولی کو اس لیے بھی دیکھتا تھا میں
میری ہامی کا فائدہ لے لو
اس سے پہلے کہ میں مکر جاؤں
بڑا مشکل تھا لیکن وہ بہ آسانی سمجھتا تھا
وہ چہرہ دیکھ کے میری پریشانی سمجھتا تھا
بھلے وہ خواب تھی لیکن حقیقت نام رکھا تھا
کسی کا پیار سے میں نے عنایت نام رکھا تھا
تم اتنے فائدے میں کیوں نہیں ہو
مرا نقصان جتنا ہو گیا ہے
ترکیب کوئی حسن سے ہٹ کر ہے تو سوچو
حسامؔ حسینوں پہ تو مرتا ہی نہیں ہے