Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hamza Hassam's Photo'

حمزہ حسام

2001 | مظفرگڑھ, پاکستان

نوجوان شاعر، مشاعروں میں سرگرم شرکت اور مؤثر پیشکش کے لیے معروف

نوجوان شاعر، مشاعروں میں سرگرم شرکت اور مؤثر پیشکش کے لیے معروف

حمزہ حسام کے اشعار

10
Favorite

باعتبار

ہم دونوں ایک شہر میں رہنے کے باوجود

ملتے نہیں اگر تو کوئی خاص بات ہے

یہ بچھڑتے وقت کہنا چاہتا تھا صاحبا

میں تمھارے ساتھ رہنا چاہتا تھا صاحبا

وہ چاہتے یہی تھے آج بات ختم ہو

سو بات ختم یوں ہوئی کہ ختم ہو گئی

اس سانولی کو اور کوئی دیکھتا نہ تھا

اس سانولی کو اس لیے بھی دیکھتا تھا میں

میری ہامی کا فائدہ لے لو

اس سے پہلے کہ میں مکر جاؤں

بڑا مشکل تھا لیکن وہ بہ آسانی سمجھتا تھا

وہ چہرہ دیکھ کے میری پریشانی سمجھتا تھا

بھلے وہ خواب تھی لیکن حقیقت نام رکھا تھا

کسی کا پیار سے میں نے عنایت نام رکھا تھا

تم اتنے فائدے میں کیوں نہیں ہو

مرا نقصان جتنا ہو گیا ہے

ترکیب کوئی حسن سے ہٹ کر ہے تو سوچو

حسامؔ حسینوں پہ تو مرتا ہی نہیں ہے

اس گہری اذیت میں یوں بے ساختہ ہنس کر

ہم مارتے ہیں کھینچ کے وحشت کو طمانچے

Recitation

بولیے