Hasrat Mohani's Photo'

حسرتؔ موہانی

1875 - 1951 | دلی, ہندوستان

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی

بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن

آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ

مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے

آرزو تیری برقرار رہے

دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال

دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں

دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا

ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی

دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر

کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے

وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

fealty I seek from you, O my faithless friend

behold my innocence and, see what I intend

fealty I seek from you, O my faithless friend

behold my innocence and, see what I intend

برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے

ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے

hidden midst the clouds, lightning I did see

that sprite was today subdued by modesty

hidden midst the clouds, lightning I did see

that sprite was today subdued by modesty

اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہم

کچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاس

کہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یار

ہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک

غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤں

مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی

آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیال

صلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کی

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمی

مخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سے

دیکھا کیے وہ مست نگاہوں سے بار بار

جب تک شراب آئی کئی دور ہو گئے

she often looks my way with her intoxicating eyes

many rounds are done even before the wine arrives

she often looks my way with her intoxicating eyes

many rounds are done even before the wine arrives

دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے

وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضری

سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج

اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروں

کشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاس

مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔ

بہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لینا

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق

پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور

تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل

پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا

کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گا

مجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گا

بدگماں آپ ہیں کیوں آپ سے شکوہ ہے کسے

جو شکایت ہے ہمیں گردش ایام سے ہے

چھپ نہیں سکتی چھپانے سے محبت کی نظر

پڑ ہی جاتی ہے رخ یار پہ حسرت کی نظر

پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایا

میں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہے

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی

تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

واقف ہیں خوب آپ کے طرز جفا سے ہم

اظہار التفات کی زحمت نہ کیجیے

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے

ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے

کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً

اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے

معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا

اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم

پیغام حیات جاوداں تھا

ہر نغمۂ کرشن بانسری کا

شکوۂ غم ترے حضور کیا

ہم نے بے شک بڑا قصور کیا

غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف

وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے

شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ

سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں

ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیں

کیا آپ کی نگاہ سے ہم آشنا نہیں

سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔ

نہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپنا

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

منحصر وقت مقرر پہ ملاقات ہوئی

آج یہ آپ کی جانب سے نئی بات ہوئی

دعوئ عاشقی ہے تو حسرتؔ کرو نباہ

یہ کیا کے ابتدا ہی میں گھبرا کے رہ گئے

کیا بلا تھی ادائے پرسش یار

مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا