Hosh Tirmizi's Photo'

ہوش ترمذی

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل

وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

ملنے کو ہے خموشئ اہل جنوں کی داد

اٹھنے کو ہے زمیں سے دھواں دیکھتے رہو

اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے

بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو

روشن چراغ دل نہ سہی جام مے تو ہو