noImage

عبرت مچھلی شہری

جون پور, ہندوستان

غزل 4

 

اشعار 7

جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر

تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے

  • شیئر کیجیے

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

  • شیئر کیجیے

زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔ

یہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 1

اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح رات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیا

 

شعرا کے مزید "جون پور"

  • شہریار شہریار
  • عزیز بانو داراب وفا عزیز بانو داراب وفا
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • وسیم بریلوی وسیم بریلوی
  • منور رانا منور رانا
  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا
  • جاوید اختر جاوید اختر
  • ثاقب لکھنوی ثاقب لکھنوی
  • اظہر عنایتی اظہر عنایتی
  • عالم خورشید عالم خورشید