noImage

عبرت مچھلی شہری

جون پور, ہندوستان

غزل 4

 

اشعار 7

جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر

تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے

  • شیئر کیجیے

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

  • شیئر کیجیے

زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔ

یہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 1

اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح رات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیا

 

"جون پور" کے مزید شعرا

  • حفیظ جونپوری حفیظ جونپوری
  • نرمل ندیم نرمل ندیم
  • رضا جونپوری رضا جونپوری
  • شوکت پردیسی شوکت پردیسی
  • اخلاق بندوی اخلاق بندوی
  • وامق جونپوری وامق جونپوری
  • فیض راحیل خان فیض راحیل خان
  • اصغر مہدی ہوش اصغر مہدی ہوش
  • شفیق جونپوری شفیق جونپوری
  • شفا کجگاؤنوی شفا کجگاؤنوی