noImage

افتخار مغل

1961 | پاکستان

440
Favorite

باعتبار

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال

ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا

آنکھ جھپکی تھی بس اک لمحے کو اور اس کے بعد

میں نے ڈھونڈا ہے تجھے زندگی صحرا صحرا

تو مجھ سے میرے زمانوں کا پوچھتی ہے تو سن!

ترا جنوں، ترا سودا، تری طلب، تری یاد

گھیر لیتی ہے کوئی زلف، کوئی بوئے بدن

جان کر کوئی گرفتار نہیں ہوتا یار

محبت اور عبادت میں فرق تو ہے ناں

سو چھین لی ہے تری دوستی محبت نے

میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں

کہ میں بھی ''تم'' ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں

خدا! صلہ دے دعا کا، محبتوں کے خدا

خدا! کسی نے کسی کے لیے دعا کی تھی

مرے وجود کے اندر مجھے تلاش نہ کر

کہ اس مکان میں اکثر رہا نہیں ہوں میں

کئی دنوں سے مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے

کوئی اداس سی ٹھنڈی سی کوئی پرچھائیں

سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں

تجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میں

یہی چراغ ہے سب کچھ کہ دل کہیں جس کو

اگر یہ بجھ گیا تو آدمی بھی پرچھائیں

اک خلا، ایک لا انتہا اور میں

کتنے تنہا ہیں میرا خدا اور میں

ابھی چھٹی نہیں جنت کی دھول پاؤں سے

ہنوز فرش زمیں پر نیا نیا ہوں میں