noImage

جوشش عظیم آبادی

1737 - 1801

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر، دلی اسکول کے طرز میں شاعری کے لیے مشہور

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر، دلی اسکول کے طرز میں شاعری کے لیے مشہور

209
Favorite

باعتبار

اس کے رخسار پر کہاں ہے زلف

شعلۂ حسن کا دھواں ہے زلف

دھیان میں اس کے فنا ہو کر کوئی منہ دیکھ لے

دل وہ آئینہ نہیں جو ہر کوئی منہ دیکھ لے

حسن اور عشق کا مذکور نہ ہووے جب تک

مجھ کو بھاتا نہیں سننا کسی افسانے کا

احوال دیکھ کر مری چشم پر آب کا

دریا سے آج ٹوٹ گیا دل حباب کا

کس طرح تجھ سے ملاقات میسر ہووے

یہ دعا گو ترا نے زور نہ زر رکھتا ہے

چھپ چھپ کے دیکھتے ہو بہت اس کو ہر کہیں

ہوگا غضب جو پڑ گئی اس کی نظر کہیں

داغ جگر کا اپنے احوال کیا سناؤں

بھرتے ہیں اس کے آگے شمع و چراغ پانی

تجھ سے ہم بزم ہوں نصیب کہاں

تو کہاں اور میں غریب کہاں

اے زلف یار تجھ سے بھی آشفتہ تر ہوں میں

مجھ سا نہ کوئی ہوگا پریشان روزگار

سجدہ جسے کریں ہیں وو ہر سو ہے جلوہ گر

جیدھر ترا مزاج ہو اودھر نماز کر

یہ سچ ہے کہ اوروں ہی کو تم یاد کرو گے

میرے دل ناشاد کو کب شاد کرو گے

اے چرخ بے کسی پہ ہماری نظر نہ کر

جو کچھ کہ تجھ سے ہو سکے تو در گزر نہ کر

ہم کو تو یاد نہیں ہم پہ جو گزری تجھ بن

تیرے آگے کہے جس کو یہ کہانی آئے

شرط انداز ہے اگر آئے

بات چھوٹی ہو یا بڑی منہ پر

بھول جاتا ہوں میں خدائی کو

اس سے جب رام رام ہوتی ہے

چشم وحدت سے گر کوئی دیکھے

بت پرستی بھی حق پرستی ہے

اللہ تا قیامت تجھ کو رکھے سلامت

کیا کیا ستم نہ دیکھے ہم نے ترے کرم سے

جو ترے سامنے آئے ہیں سو کم ٹھہرے ہیں

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ ہم ٹھہرے ہیں

پھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان

اس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے

ناخن یار سے بھی کھل نہ سکی

دانۂ اشک کی گرہ اے چشم

ہمارے شعر کو سن کر سکوت خوب نہیں

بیان کیجئے اس میں جو کچھ تأمل ہو

دیوانے چاہتا ہے اگر وصل یار ہو

تیرا بڑا رقیب ہے دل اس سے راہ رکھ

بے گنہ کہتا پھرے ہے آپ کو

شیخ نسل حضرت آدم نہیں

ترا شعر ؔجوشش تجھے ہے پسند

تو محتاج ہے کس کی تائید کا

ایسی مرے خزانۂ دل میں بھری ہے آگ

فوارہ چھوٹتا ہے مژہ سے شرار کا

تنک اودھر ہی رہ اے حرص دنیا

نہ دے تکلیف اس گوشہ نشیں کو

جو آنکھوں میں پھرتا ہے پھرے آنکھوں کے آگے

آسان خدا کر دے یہ دشوار محبت

طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد

بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر

ہیں دیر و حرم میں تو بھرے شیخ و برہمن

جز خانۂ دل کیجئے پھر قصد کدھر کا

زلف اور رخ کی پرستش شرط ہے

کفر ہو اے شیخ یا اسلام ہو

بس کر یہ خیال آفرینی

اس کے ہی خیال میں رہا کر

رکھتے ہیں دہانوں پہ سدا مہر خموشی

وے لوگ جنہیں آتی ہے گفتار محبت

یہ زیست طرف دل ہی میں یارب تمام ہو

کافر ہوں گر ارادۂ بیت الحرام ہو

خار زار عشق کو کیا ہو گیا

پاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں

انسان تو ہے صورت حق کعبے میں کیا ہے

اے شیخ بھلا کیوں نہ کروں سجدے بتاں کو

وہ ماہ بھر کے جام مے ناب لے گیا

اک دم میں آفتاب کو مہتاب لے گیا

جو ہے کعبہ وہ ہی بت خانہ ہے شیخ و برہمن

اس کی ناحق کرتے ہو تکرار دونوں ایک ہیں

صبا بھی دور کھڑی اپنے ہاتھ ملتی ہے

تری گلی میں کسی کا گزر نہیں ہرگز

کفر پر مت طعن کر اے شیخ میرے رو بہ رو

مجھ کو ہے معلوم کیفیت ترے اسلام کی

مونس تازہ ہیں یہ درد و الم

مدتوں کا رفیق ہے غم تو

اپنا دشمن ہو اگر کچھ ہے شعور

انتظار وعدۂ فردا نہ کر

یاں تک رہے جدا کہ ہمارے مذاق میں

آخر کہ زہر ہجر بھی تریاک ہو گیا

زاہد نہ رہنے پائیں گے آباد مے کدے

جب تک نہ ڈھایئے گا تری خانقاہ کو