Kafeel Aazar Amrohvi's Photo'

کفیل آزر امروہوی

1940 | ممبئی, انڈیا

فلم نغمہ نگار ، اپنی نظم ’ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ کے لئے مشہور، جسے جگجیت سنگھ نے آواز دی تھی

فلم نغمہ نگار ، اپنی نظم ’ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ کے لئے مشہور، جسے جگجیت سنگھ نے آواز دی تھی

کفیل آزر امروہوی کے اشعار

4.2K
Favorite

باعتبار

ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن

اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

مکاں شیشے کا بنواتے ہو آزرؔ

بہت آئیں گے پتھر دیکھ لینا

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں

میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا

یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیں

اشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیں

میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ

پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

صبح لے جاتے ہیں ہم اپنا جنازہ گھر سے

شام کو پھر اسے کاندھوں پہ اٹھا لاتے ہیں

جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا

وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا

تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا

زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا

حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس

صرف وعدے آسمانی دے گیا

تم کو ماحول سے ہو جائے گی نفرت آزرؔ

اتنے نزدیک سے دیکھا نہ کرو یاروں کو

اداسی کا سمندر دیکھ لینا

مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

اک سہما ہوا سنسان گلی کا نکڑ

شہر کی بھیڑ میں اکثر مجھے یاد آیا ہے

جب سے اک خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو

میں ہر اک خواب کی تعبیر سے گھبراتا ہوں

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد

غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد

یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگا

تمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگا

ہم بھی ان بچوں کی مانند کوئی پل جی لیں

ایک سکہ جو ہتھیلی پہ سجا لاتے ہیں

میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر

مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے