Khurshid Rabbani's Photo'

خورشید ربانی

1973

311
Favorite

باعتبار

وحشتیں عشق اور مجبوری

کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

وہ تغافل شعار کیا جانے

عشق تو حسن کی ضرورت ہے

کسی خیال کسی خواب کے لیے خورشیدؔ

دیا دریچے میں رکھا تھا دل جلایا تھا

یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور

یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے

ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا

ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ہے

دیکھ کر بھی نہ دیکھنا اس کا

یہ ادا تو بتوں میں ہوتی ہے

میں ہوں اک پیکر خیال و خواب

اور کتنی بڑی حقیقت ہوں

خدا کرے کہ کھلے ایک دن زمانے پر

مری کہانی میں جو استعارہ خواب کا ہے

ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے

اور فلک نے چاند ستارہ پہن لیا تھا

کسی نے میری طرف دیکھنا نہ تھا خورشیدؔ

تو بے سبب ہی سنوارا گیا تھا کیوں مجھ کو

یہ کار محبت بھی کیا کار محبت ہے

اک حرف تمنا ہے اور اس کی پذیرائی

ترا بخشا ہوا اک زخم پیارے

چلی ٹھنڈی ہوا جلنے لگا ہے

خوابوں کی میں نے ایک عمارت بنائی اور

یادوں کا اس میں ایک دریچہ بنا لیا

اتر کے شاخ سے اک ایک زرد پتے نے

نئی رتوں کے لیے راستہ بنایا تھا

یہ دل کہ زرد پڑا تھا کئی زمانوں سے

میں تیرا نام لیا اور بہار آ گئی ہے

کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی

فلک پہ کتنے ستارے ہیں جگمگائے ہوئے

کس کی خاطر اجاڑ رستے پر

پھول لے کر شجر کھڑا ہوا تھا

ہوائے تازہ کا جھونکا ادھر سے کیا گزرا

گرے پڑے ہوئے پتوں میں جان آ گئی ہے