Mah Laqa Chanda's Photo'

ماہ لقا چندا

1768 - 1824 | حیدر آباد, انڈیا

ماہ لقا چندا

غزل 13

اشعار 14

گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم

کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

  • شیئر کیجیے

تیر و تلوار سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

کتاب 8

 

تصویری شاعری 3

 

آڈیو 12

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے