Muzaffar Razmi's Photo'

مظفر رزمی

1936 - 2012 | مظفر نگر, ہندوستان

اپنے شعر ’ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے‘ کے لیے مشہور

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے

کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

ورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

مجھ کو حالات میں الجھا ہوا رہنے دے یوں ہی

میں تری زلف نہیں ہوں جو سنور جاؤں گا

میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی

اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا

تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا

میرے ماحول میں ہر سمت برے لوگ نہیں

کچھ بھلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں

انداز غزل آپ کا کیا خوب ہے رزمیؔ

محسوس یہ ہوتا ہے قلم توڑ دیا ہے