Muzaffar Razmi's Photo'

مظفر رزمی

1936 - 2012 | مظفر نگر, ہندوستان

اپنے شعر ’ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے‘ کے لیے مشہور

9.9K
Favorite

باعتبار

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے

کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے

کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

ورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

ورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

مجھ کو حالات میں الجھا ہوا رہنے دے یوں ہی

میں تری زلف نہیں ہوں جو سنور جاؤں گا

مجھ کو حالات میں الجھا ہوا رہنے دے یوں ہی

میں تری زلف نہیں ہوں جو سنور جاؤں گا

میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی

اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا

میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی

اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا

تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا

تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا

میرے ماحول میں ہر سمت برے لوگ نہیں

کچھ بھلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں

میرے ماحول میں ہر سمت برے لوگ نہیں

کچھ بھلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں

انداز غزل آپ کا کیا خوب ہے رزمیؔ

محسوس یہ ہوتا ہے قلم توڑ دیا ہے

انداز غزل آپ کا کیا خوب ہے رزمیؔ

محسوس یہ ہوتا ہے قلم توڑ دیا ہے