noImage

ناطق گلاوٹھی

1886 - 1969 | ناگپور, ہندوستان

390
Favorite

باعتبار

ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم

جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے

کس کو مہرباں کہئے کون مہرباں اپنا

وقت کی یہ باتیں ہیں وقت اب کہاں اپنا

اے زندگی جنوں نہ سہی بے خودی سہی

تو کچھ بھی اپنی عقل سے پاگل اٹھا تو لا

ہمیں کم بخت احساس خودی اس در پہ لے بیٹھا

ہم اٹھ جاتے تو وہ پردہ بھی اٹھ جاتا جو حائل تھا

ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو

ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش

آئی ہوگی تو موت آئے گی

تم تو جاؤ مرا خدا حافظ

مے کو مرے سرور سے حاصل سرور تھا

میں تھا نشہ میں چور نشہ مجھ میں چور تھا

تم ایسے اچھے کہ اچھے نہیں کسی کے ساتھ

میں وہ برا کہ کسی کا برا نہیں کرتا

کچھ نہیں اچھا تو دنیا میں برا بھی کچھ نہیں

کیجیے سب کچھ مگر اپنی ضرورت دیکھ کر

ہمیں جو یاد ہے ہم تو اسی سے کام لیتے ہیں

کسی کا نام لینا ہو اسی کا نام لیتے ہیں

ڈھونڈھتی ہے اضطراب شوق کی دنیا مجھے

آپ نے محفل سے اٹھوا کر کہاں رکھا مجھے

اب کہاں گفتگو محبت کی

ایسی باتیں ہوئے زمانہ ہوا

رہ کے اچھا بھی کچھ بھلا نہ ہوا

میں برا ہو گیا برا نہ ہوا

وفا پر ناز ہم کو ان کو اپنی بے وفائی پر

کوئی منہ آئنہ میں دیکھتا ہے کوئی پانی میں

عمر بھر کا ساتھ مٹی میں ملا

ہم چلے اے جسم بے جاں الودع

ہم پاؤں بھی پڑتے ہیں تو اللہ رے نخوت

ہوتا ہے یہ ارشاد کہ پڑتے ہیں گلے آپ

ظاہر نہ تھا نہیں سہی لیکن ظہور تھا

کچھ کیوں نہ تھا جہان میں کچھ تو ضرور تھا

اب جہاں میں باقی ہے آہ سے نشاں اپنا

اڑ گئے دھوئیں اپنے رہ گیا دھواں اپنا

سب کچھ مجھے مشکل ہے نہ پوچھو مری مشکل

آسان بھی ہو کام تو آساں نہیں ہوتا

پہلی باتیں ہیں نہ پہلے کی ملاقاتیں ہیں

اب دنوں میں وہ رہا لطف نہ راتوں میں رہا

مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ

وہ خاک اڑاتا ہے لیکن نہیں دل میلا

ملے مراد ہماری مگر ملے بھی کہیں

خدا کرے مگر ایسا خدا نہیں کرتا

طریق دلبری کافی نہیں ہر دل عزیزی کو

سلیقہ بندہ پرور چاہئے بندہ نوازی کا

اک حرف شکایت پر کیوں روٹھ کے جاتے ہو

جانے دو گئے شکوے آ جاؤ میں باز آیا

ہاں جان تو دیں گے مگر اے موت ابھی دم لے

ایسا نہ کہیں وہ کہ ہم آئے تو چلے آپ

دوسروں کو کیا کہئے دوسری ہے دنیا ہی

ایک ایک اپنے کو ہم نے دوسرا پایا

تمہاری بات کا اتنا ہے اعتبار ہمیں

کہ ایک بات نہیں اعتبار کے قابل

مجھ سے ناراض ہیں جو لوگ وہ خوش ہیں ان سے

میں جدا چیز ہوں ناطقؔ مرے اشعار جدا

کیا ارادے ہیں وحشت دل کے

کس سے ملنا ہے خاک میں مل کے

نظر آتا نہیں اب گھر میں وہ بھی اف رے تنہائی

اک آئینہ میں پہلے آدمی تھا میری صورت کا

اب کہیں کس سے کہ ان سے بات کرنا ہے گناہ

جب کلام آیا زباں پر لا کلام آ ہی گیا

ہم تو مسجد سے بھی مایوس ہی آئے ناطقؔ

کوئی اللہ کا بندہ تو مسلماں ہوتا

بے خود شوق ہوں آتا ہے خدا یاد مجھے

راستہ بھول کے بیٹھا ہوں صنم خانے کا

چال اور ہے دنیا کی ہمارا ہے چلن اور

وہ ساخت ہے کچھ اور یہ بے ساختہ پن اور

اب گردش دوراں کو لے آتے ہیں قابو میں

ہم دور چلاتے ہیں ساقی سے کہو مے لا

اہل جنوں پہ ظلم ہے پابندیٔ رسوم

جادہ ہمارے واسطے کانٹا ہے راہ کا

تم اگر جاؤ تو وحشت مری کھا جائے مجھے

گھر جدا کھانے کو آئے در و دیوار جدا

آ کے بزم ہستی میں کیا بتائیں کیا پایا

ہم کو تھا ہی کیا لینا بت ملے خدا پایا

انتظام روز عشرت اور کر اے نامراد

عید آتی ہی رہی ماہ صیام آ ہی گیا

آخر کو راہبر نے ٹھکانے لگا دیا

خود اپنی راہ لی مجھے رستہ بتا دیا

رسم طلب میں کیا ہے سمجھ کر اٹھا قدم

آ تجھ کو ہم بتائیں کہ کیا مانگ کیا نہ مانگ

کشتی ہے گھاٹ پر تو چلے کیوں نہ دور آج

کل بس چلے چلے نہ چلے چل اٹھا تو لا

ختم کرنا چاہتا ہوں پیچ و تاب زندگی

یاد گیسو زور بازو بن مرے شانے میں آ

دھوم کر رکھی تھی کل رندوں نے بزم وعظ میں

پگڑی غائب تھی جناب شیخ کی گل تھا چراغ

ڈھونڈ تو بت بھی یہیں مل جائیں گے مرد خدا

ہم نے دیکھا ہے حرم ہی میں کہیں بت خانہ تھا

گھر بنانے کی بڑی فکر ہے دنیا میں ہمیں

صاحب خانہ بنے جاتے ہیں مہماں ہو کر

عالم کون و مکاں نام ہے ویرانے کا

پاس وحشت نہیں گھر دور ہے دیوانے کا

کیا کروں اے دل مایوس ذرا یہ تو بتا

کیا کیا کرتے ہیں صدموں سے ہراساں ہو کر

ہاں یہ تو بتا اے دل محروم تمنا

اب بھی کوئی ہوتا ہے کہ ارماں نہیں ہوتا

ناز ادھر دل کو اڑا لینے کی گھاتوں میں رہا

میں ادھر چشم سخن گو تری باتوں میں رہا