Shahbaz Khwaja's Photo'

شہباز خواجہ

انگلستان

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے

مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں

سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے

متاع جاں ہیں مری عمر بھر کا حاصل ہیں

وہ چند لمحے ترے قرب میں گزارے ہوئے

اک ایسا وقت بھی صحرا میں آنے والا ہے

کہ راستہ یہاں دریا بنانے والا ہے

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے

پہنچ گئی ہے کہاں جانے بات چلتے ہوئے

وہ ایک تو کہ ترے غم میں اک جہاں روئے

وہ ایک میں کہ مرا کوئی رونے والا نہیں

یوں تو ممکن نہیں دشمن مرے سر پر پہنچے

پہرے داروں میں کوئی آنکھ جھپک جاتا ہے

کتنے گلشن کہ سجے تھے مرے اقرار کے نام

کتنے خنجر کہ مری ایک نہیں پر چمکے