Syed Yusuf Ali Khan Nazim's Photo'

سید یوسف علی خاں ناظم

1816 - 1865 | رام پور, ہندوستان

247
Favorite

باعتبار

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

ہے عید میکدے کو چلو دیکھتا ہے کون

شہد و شکر پہ ٹوٹ پڑے روزہ دار آج

سنبھال واعظ زبان اپنی خدا سے ڈرا اک ذرا حیا کر

بتوں کی غیبت خدا کے گھر میں خدا خدا کر خدا خدا کر

عید کے دن جائیے کیوں عید گاہ

جب کہ در مے کدہ وا ہو گیا

بوسۂ عارض مجھے دیتے ہوئے ڈرتا ہے کیوں

لوں گا کیا نوک زباں سے تیرے رخ کا تل اٹھا

عید ہے ہم نے بھی جانا کہ نہ ہوتی گر عید

مے فروش آج در مے کدہ کیوں وا کرتا

روزہ رکھتا ہوں صبوحی پی کے ہنگام سحر

شام کو مسجد میں ہوتا ہوں جماعت کا شریک

واعظ و شیخ سبھی خوب ہیں کیا بتلاؤں

میں نے میخانے سے کس کس کو نکلتے دیکھا

بھلا کیا طعنہ دوں زہاد کو زہد ریائی کا

پڑھی ہے میں نے مسجد میں نماز بے وضو برسوں

شبستاں میں رہو باغوں میں کھیلو مجھ سے کیوں پوچھو

کہ راتیں کس طرح کٹتی ہیں دن کیسے گزرتے ہیں

کم سمجھتے نہیں ہم خلد سے میخانے کو

دیدۂ حور کہا چاہئے پیمانے کو

جنبش ابرو کو ہے لیکن نہیں عاشق پہ نگاہ

تم کماں کیوں لیے پھرتے ہو اگر تیر نہیں

افسانۂ مجنوں سے نہیں کم مرا قصہ

اس بات کو جانے دو کہ مشہور نہیں ہے

پرسش کو اگر ہونٹ تمہارے نہیں ہلتے

کیا قتل کو بھی ہاتھ تمہارا نہیں اٹھتا

آ گیا دھیان میں مضموں تری یکتائی کا

آج مطلع ہوا مصرع مری تنہائی کا

وہی معبود ہے ناظمؔ جو ہے محبوب اپنا

کام کچھ ہم کو نہ مسجد سے نہ بت خانے سے

ساحل پر آ کے لگتی ہے ٹکر سفینے کو

ہجراں سے وصل میں ہے سوا دل کی احتیاط

خریداری ہے شہد و شیر و قصر و حور و غلماں کی

غم دیں بھی اگر سمجھو تو اک دھندا ہے دنیا کا

جاتی نہیں ہے سعی رہ عاشقی میں پیش

جو تھک کے رہ گیا وہی ثابت قدم ہوا

اس بت کا کوچہ مسجد جامع نہیں ہے شیخ

اٹھئے اور اپنا یاں سے مصلیٰ اٹھائیے

گھر کی ویرانی کو کیا روؤں کہ یہ پہلے سی

تنگ اتنا ہے کہ گنجائش تعمیر نہیں

کہتے ہیں چھپ کے رات کو پیتا ہے روز مے

واعظ سے راہ کیجیے پیدا کسی طرح

چاہوں کہ حال وحشت دل کچھ رقم کروں

بھاگیں حروف وقت نگارش قلم سے دور

کہتے ہو سب کہ تجھ سے خفا ہو گیا ہے یار

یہ بھی کوئی بتاؤ کہ کس بتا پر ہوا

رونے نے مرے سیکڑوں گھر ڈھا دیے لیکن

کیا راہ ترے کوچے کی ہموار نکالی

پھونک دو یاں گر خس و خاشاک ہیں

دور کیوں پھینکو ہمیں گلزار سے

چلے ہو دشت کو ناظمؔ اگر ملے مجنوں

ذرا ہماری طرف سے بھی پیار کر لینا

ہے رشتہ ایک پھر یہ کشاکش نہ چاہئے

اچھا نہیں ہے سبحہ کا زنار سے بگاڑ

برسوں ڈھونڈا کئے ہم دیر و حرم میں لیکن

کہیں پایا نہ پتا اس بت ہرجائی کا

ایک ہے جب مرجع اسلام و کفر

فرق کیسا سبحہ و زنار کا

کیا کھائیں ہم وفا میں اب ایمان کی قسم

جب تار سبحہ رشتۂ زنار ہو چکا

کیا میرے کام سے ہے روائی کو دشمنی

کشتی مری کھلی تھی کہ دریا ٹھہر گیا

بے دیے لے اڑا کبوتر خط

یوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خط

ناظمؔ یہ انتظام رعایت ہے نام کی

میں مبتلا نہیں ہوس ملک و مال کا

ہے جلوہ فروشی کی دکاں جو یہ اب اسی نے

دیوار میں کھڑکی سر بازار نکالی

شاعر بنے ندیم بنے قصہ خواں بنے

پائی نہ ان کے دل میں مگر جا کسی طرح

ہے دور فلک ضعف میں پیش نظر اپنے

کس وقت ہم اٹھتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

کفر و ایماں سے ہے کیا بحث اک تمنا چاہئے

ہاتھ میں تسبیح ہو یا دوش پر زنار ہو

بند محرم کے وہ کھلواتے ہیں ہم سے بیشتر

آج کل سونے کی چڑیا ہے ہمارے ہاتھ میں

محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا

سیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کا

حق یہ ہے کہ کعبے کی بنا بھی نہ پڑی تھی

ہیں جب سے در بت کدہ پر خاک نشیں ہم

جب گزرتی ہے شب ہجر میں جی اٹھتا ہوں

عہدہ خورشید نے پایا ہے مسیحائی کا

نہ بذلہ سنج نہ شاعر نہ شوخ طبع رقیب

دیا ہے آپ نے خلوت میں اپنی بار کسے

جب ترا نام سنا تو نظر آیا گویا

کس سے کہئے کہ تجھے کان سے ہم دیکھتے ہیں