اسامہ ضوریز کے اشعار
جو تری جستجو میں چھوڑ دیا
اس کا نعم البدل تو تو بھی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تیرے ہوتے بھی سب خراب ہی تھا
اور پھر آج کل تو تو بھی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس کا بچھڑنا لے گیا حس مزاح تک
ہنسنے کی بات کرتا ہوں ہنستا کوئی نہیں
جس قدر رونے کی عادت ہے وہ دن دور نہیں
لوگ بلوائیں گے مرنے پہ مجھے رونے کو
پھول اس واسطے کھلتا ہے کہ تو دیکھے اسے
موسم اس واسطے اچھا ہے کہ تو سیر کرے
جو رو رہے ہوں ان کی خوشی میں شریک ہوں
جو ہنس رہے ہوں ان کو دلاسا دیا کریں
ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں
وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو
ترے نہ آنے کا سن کر بہت اداس ہوا
وہ آدمی جو ترے انتظار میں بھی نہ تھا
ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو
اسے دیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے
تمہارا ملنا تو پہلے بھی کتنا مشکل تھا
اور اب کی بار تو حالات بھی خراب ہوئے
یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں
یہ دکھ کی بات ہے کہ کسی کا کوئی نہیں
آواز جس کی پیاری ہے ملنے چلیں اسے
سنتا نہیں کسی کی مگر بولتا تو ہے
ہم لوگ تیری خوشیوں میں شامل تو ہوں گے دوست
ظاہر ہے غم بھی بیچ میں حائل تو ہوں گے دوست
تمہارے ساتھ تو سورج ابھرتا دیکھتے تھے
تمہارے بعد سبھی دوست جلدی سونے لگے
ہمارے اشک ترے پاؤں تک بھگونے لگے
بلوچ ہوتے ہوئے بھی کسی کو رونے لگے
معصوم تھا میں پھر بھی سزا کر دیا اس نے
اچھے بھلے قیدی کو رہا کر دیا اس نے
کیوں آج تجھے دیکھ کے محسوس ہوا ہے
دیکھا ہے کسی اور نے آئینہ ہمارا
وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
وہ مجھ میں بھر گیا ہے محبت کے نام پر
اک رنگ جس کا آب و ہوا کچھ نہ کر سکے