noImage

واصف دہلوی

1910 - 1987 | دلی, انڈیا

واصف دہلوی

غزل 18

اشعار 21

کتنی گھٹائیں آئیں برس کر گزر گئیں

شعلہ ہمارے دل کا بجھایا نہ جا سکا

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

دیدار سے پہلے ہی کیا حال ہوا دل کا

کیا ہوگا جو الٹیں گے وہ رخ سے نقاب آخر

ہلکی سی خلش دل میں نگاہوں میں اداسی

شاید یوں ہی ہوتی ہے محبت کی شروعات

آج رخصت ہو گیا دنیا سے اک بیمار غم

درد ایسا دل میں اٹھا جان لے کر ہی گیا

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

 

آڈیو 8

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں_گے ہم

ذرہ حریف_مہر درخشاں ہے آج کل

نسیم_صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے