Yasmeen Hameed's Photo'

یاسمین حمید

1951 | پاکستان

236
Favorite

باعتبار

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے

اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں

جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں

سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا

کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے

مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی

چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے

آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی

تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے

مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں

وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں

اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک

اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

کسی کے نرم لہجے کا قرینہ

مری آواز میں شامل رہا ہے

اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم

یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے

مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں

جو میری بات کا حاصل رہا ہے

کیوں ڈھونڈنے نکلے ہیں نئے غم کا خزینہ

جب دل بھی وہی درد کی دولت بھی وہی ہے

اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی

اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے