aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "شمر"
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
شمس الرحمن فاروقی
1935 - 2020
مصنف
ولی دکنی
1667 - 1707
اختر شمار
1960 - 2022
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
شمیم کرہانی
1913 - 1975
عبدالحلیم شرر
1860 - 1926
خواجہ حافظ شیرازی
1315 - 1390
شمس تبریزی
1185 - 1248
جارج پیش شور
1823 - 1894
کنولؔ ڈبائیوی
1919 - 1994
پیر شیر محمد عاجز
سیدہ نفیس بانو شمع
born.1957
چندراشیکھر پانڈے شمس
born.1984
صحرا کے نخل سب شجر طور ہو گئےغل تھا زہے حسین کی شوکت زہے وقار
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
برچھیاں کھاتے چلے جاتے ہیں تلواروں میںمار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں
رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میریشور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری
چہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظرقبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر
نون میم راشد کا شمار اردو کےان ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے خوبصورت اور آرائشی اسلوب سے اس صنف کی صحیح معنوں میں ایک پہچان دی ہے۔ اس مجموعہ میں ان کی منتخب نظموں کے ساتھ ساتھ ان نظموں کی ڈرامائی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں، تاکہ آپ ان نظموں کو سن کر بھی لطف اٹھا سکیں
شاعری تنقید کا ایک ایسا انتخاب جو شعر کی قرات و تفہیم میں مددگار ثابت ہوسکتاہے
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
शमरشَمَر
تالاب ، حوض خورد ، جس گڑھے میں مینہ کا پانی جمع ہو جاتا ہے
शुमरشُمَر
گنتی، شمار، مرکبات میں جزو دوم کے طورپرآکرصفت فاعلی کے معنی دیتا ہے یعنی گننے والا، جیسے : ستارہ شمر (نجومی)
پیار کا پہلا شہر
مستنصر حسین تارڑ
رومانی
شعر شور انگیز
شرح
شمس المعارف الکبریٰ
اردو کا ابتدائی زمانہ
تنقید
مقدمہ شعر و شاعری
الطاف حسین حالی
فن شعر و شاعری اور روح بلاغت
حمیداللہ شاہ ہاشمی
زبان
فردوس بریں
تاریخی
شاعری تنقید
اے ہسٹری آف انڈین لٹریچر
اے شمل
تاریخ
پیمانۂ غزل
محمد شمس الحق
لغات روز مرہ
لغات و فرہنگ
تفہیم غالب
دیوان چرکین
شیخ باقر علی چرکین
شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ
اگر اب بھی نہ جاگے تو
شمس نوید عثمانی
ترجمہ
وہی نور، ہے سب طرف جلوہ گراسی کے یہ ذرے ہیں شمس و قمر
حائل ہو مرگ و زیست میں لے دے کے ایک راتیہ وہ گھڑی ہے کانپ اٹھے شیر نر کا دل
جو مٹنے والے ہیں ان کے لئے دوام لکھوںثنا یزید کی اور شمر پر سلام لکھوں
حق نے لکھ دی تھی جو تقدیر میں فردوس کی سیرفتنہ و شر سے بچا، ہو گیا انجام بخیر
تیشہ لگا کے خط شعاعی کا آب دار کی جوے ٔشیر صبح سیاہی سے آشکار
تیرے لفظوں میں دو صد شمس و قمر زمزمہ خواںتیری گفتار سے برنائی ذہن انساں
اور شور کوس رحلت سرور جہان سے فریاد وا حسینؑ حرم کی زبان سے
مارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نررخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ور
تلنے لگا سفید و سیہ صبح و شام کاگل شمع فتح کا صفت غنچہ کھل گیا
شاعری کس چیز کا نام ہے؟ کسی چیز کا، کسی واقعہ کا، کسی حالت کا، کسی کیفیت کا اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ دریا کی روانی، جنگل کی ویرانی، باغ کی شادابی، سبزے کی لہک، پھولوں کی مہک، خوشبو کی لپٹ،...
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books