aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".dqn"
سراج اورنگ آبادی
1712 - 1764
شاعر
بیخود دہلوی
1863 - 1955
مظفر وارثی
1933 - 2011
جمیل الدین عالی
1925 - 2015
محمد دین تاثیر
1902 - 1958
شمس تبریزی
1185 - 1248
مصنف
معین نظامی
born.1965
فرید جاوید
1927 - 1977
ملا عبدالرحمان جامی
1414 - 1492
سلطان اورنگ زیب عالمیر
1618 - 1707
امام دین گجراتی
شاہ دین ہمایوں
1868 - 1918
عبد الحق محدث دہلوی
1551 - 1642
جمال الدین افغانی
1838 - 1897
ڈان ڈی سلوا فطرت
1772 - 1845
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
عمر گزرے گی امتحان میں کیاداغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
سنا دیں عصمت مریم کا قصہپر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
दाँ داں
سب کچھ جاننے والا، جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو
سنسکرت, فارسی
दूँ دُوں
ڈھول کی آواز ، کسی ساز کے مسلسل بجنے کی آواز ، نوبت اور نقّارے کی آواز
فارسی
दीं دِیں
faith, religion
عربی
डा ڈا
سِتار کی گت کا ایک توڑا.
مثنوی کدم راؤ پدم راؤ
فخر دین نظامی
مثنوی
دین کی باتیں
مولانا اشرف علی تھانوی
اسلامیات
قرابادین مجیدی
دفتر جامعہ طبیہ، دہلی
طب
مثنوی حضرت شمس تبریز
القرابا دین
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
چند مشہور طبیب اور سائنس داں
نامعلوم مصنف
شخصیت
قائم دین
علی اکبر ناطق
افسانہ
ہند اسلامی تہذیب کا ارتقاء
عماد الحسن آزاد فاروقی
تہذیبی وثقافتی تاریخ
معروف مسلم سائنسداں
محمد اکرام چغتائی
امہ الانساب
رضوان الدین انصاری
Nov 2006تذکرہ
مثنوی نظامی دکنی
دین الہی اور اس کا پس منظر
مہر محمد خاں شہاب مالیر کوٹلوی
ہندوستانی تاریخ
قرآن اور علم جدید
محمد رفیع الدین
ایک دن
بانو قدسیہ
خواتین کی تحریریں
انچاس دن
امرتا پریتم
ناول
اب اس کی یاد رات دننہیں، مگر کبھی کبھی
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میںیہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میںرات دن تیری انتظاری ہے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناںتم مری زندگی کی عادت ہو
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوںمیں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سےپھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نےبات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہےجو لوح ازل میں لکھا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books