aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aashiqaana"
جسونت رائے اشٹھانہ
مصنف
کشاف مریخ اشیانی
مکتبہ آشیانہ نئی، دہلی
ناشر
آشیانہ پبلی کیشن، کراچی
اشناء عشری، لاہور
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میںجو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
صیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغبلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیاپھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغتیہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ
غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدوسلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
'आशिक़ाना عاشِقانَہ
عاشقوں کا سا نیز عشق کی کیفیت یا مضمون کا، عشق آمیز
عربی
आशियाना آشِیانا
رہنے کی جگہ، رہنے کا مقام، گھونسلہ، بسیرا، گھر
فارسی
'आशिक़ाँ عاشِقاں
عشق کرنے والے، عشّاق
आशियाना آشِیانہ
پرند کا گھر جسے وہ تنکوں وغیرہ سے بناتا ہے، گھونسلا، نشیمن
عاشقانہ خط و کتابت
بلونت سنگھ
خطوط
کلام عاشقانہ رباعیات و اشعار
کنور اودے سنگھ
مجموعہ
مکتوبات محبت
ارشاد احمد خاں
مثنوی
مضامین شرر شاعرانہ و عاشقانہ
عبدالحلیم شرر
مقالات/مضامین
مذاہب عاشقانہ
مرزا محمد بہادر یاور
عاشقانہ خط و کتابت کے نمونے
ایس۔ ایم۔ حمید
مضامین شرر: عاشقانہ وشاعرانہ
مجربات بو علی سینا
ابن سینا
طب یونانی
معراج العاشقین
خواجہ بندہ نواز گیسو دراز
ملفوظات
محمد اقبال شکوہ و جواب شکوہ
علامہ اقبال
شاعری
شرح معراج العاشقین
مرتب
تصوف
آشیاں گم کردہ
اشفاق حسین
مفتاح العاشقین
نصیرالدین چراغ دہلی
سید محمد حسینی
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بجلیاں برسیںوہ دلبرانہ مروت کہ عاشقانہ لگے
وہ اس ٹیلے پر اکثر عاشقانہ گیت گاتی تھیپرانے سورماؤں کے فسانے گنگناتی تھی
ہمیشہ فکر سے یاں عاشقانہ شعر ڈھلتے ہیںزباں کو اپنی بس اک حسن کا افسانہ آتا ہے
عاشقانہ ہے عقیدہ بھی ہمارا مائلؔلے کے ہم نام بتاں ذکر خدا کرتے ہیں
غم و رنج عاشقانہ نہیں کیلکولیٹرانہاسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا
مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہمری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہ
ربط و ضبط باہمی کے ہائے وہ راز و نیازعاشقانہ حسن تھا اور عشق معشوقانہ تھا
بہ طرز عاشقانہ دوڑ کر بے ہوش ہو جانابہ رنگ دلبرانہ جھانک کر روپوش ہو جانا
ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہ
کمال حسن کا جس سے تمہیں خزانہ ملامجھے اسی سے یہ انداز عاشقانہ ملا
میں نے کہا برین کوئی عاشقانہ دےجلدی سے اک دماغ مجھے شاعرانہ دے
کیفیت باہم محبت میں وہ سرشاری کی ہےعاشقانہ ان کا طور انداز جانانہ مرا
کمر خمیدہ ہے اتنی کہ میم لگتا ہےوہ عاشقوں کی محبت میں ٹیم لگتا ہے
کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھااپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books