aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faizi"
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
شاعر
فیض احمد فیض
1911 - 1984
ندا فاضلی
1938 - 2016
فہمی بدایونی
1952 - 2024
فیضی
born.1965
امید فاضلی
1923 - 2005
فیض انور
شوکت فہمی
تسلیم فاضلی
1947 - 1982
فیضی نظام پوری
عبدالغنی فیضی
فیض لدھیانوی
1911 - 1995
فیضان ہاشمی
born.1986
فیض خلیل آبادی
born.1980
فیصل فہمی
آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیاوہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا
غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنانہ آیا ہم کو برہنہ گزارشیں لکھنا
ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوںمیں کبھی چین سے رہا ہی نہیں
زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکیآدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں نمایاں، نقاد، دانشور اور رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر، گیان پیٹھ انعام سے سرفراز، اردو شاعروں پر دستاویزی فلمیں بنائیں
سب سے پسندیدہ اور مقبول شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
बाज़ि' باضِع
تیز یا کاٹنے والی (تلوار)
عربی
फ़ैज़ فَیض
فیض کا سرچشمہ، مراد : خدا تعالیٰ
'अज़ीज़ी عَزِیزِی
دوستی، محبّت، پیار
चीज़ी چِیزی
sweet, toffee, etc.
خطوط اقبال بنام عطیہ فیضی
علامہ اقبال
خط
سیرت کلفائے راشدین
اختر حسین فیضی
طلسم ہوش ربا
ابوالفیض فیضی
داستان
بھارت کے مسلمان
شمیم فیضی
ہندوستانی تاریخ
دیوان فیضی فیاضی
دیوان
مثنوی نل دمن فیضی تحقیق و تدوین
محمد طیب صدیقی
تنقید
کلیات فضا ابن فیضی
کلیات
نیا حمام
ذاکر فیضی
افسانہ
قند مکرر
فیاض احمد فیضی
طنز و مزاح
کھوار بول چال
عنایت اللہ فیضی
غزل
خطوط شبلی
محمد امین زبیری
خطوط
عروس نیل
سلطانہ آصف فیضی
کہانیاں/ افسانے
فضا ابن فیضی شخصیت اور فن
حدیث انصاری
تحقیق
چڑیاں
معلومات عامہ
اچھا ہوا میں وقت کے محور سے کٹ گیاقطرہ گہر بنا جو سمندر سے کٹ گیا
وقت نے کس آگ میں اتنا جلایا ہے مجھےجس قدر روشن تھا میں اس سے سوا روشن ہوا
اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہےہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا
ایک دن غرق نہ کر دے تجھے یہ سیل وجوددیکھ ہو جائے نہ پانی کہیں سر سے اونچا
کس طرح عمر کو جاتے دیکھوںوقت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے
مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقتخزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا
اس لیے دل برا کیا ہی نہیںزندگی میرا فیصلہ ہی نہیں
رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھےیہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے
جلا ہے شہر تو کیا کچھ نہ کچھ تو ہے محفوظکہیں غبار کہیں روشنی سلامت ہے
اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گاوہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا
ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلاکتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا
ہاتھ پھیلاؤ تو سورج بھی سیاہی دے گاکون اس دور میں سچوں کی گواہی دے گا
مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دیناہٹا کر مجھ کو تم منظر سے پس منظر پہ لکھ دینا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books