aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hasrato"
حسرتؔ موہانی
1878 - 1951
شاعر
حسرتؔ جے پوری
1922 - 1999
چراغ حسن حسرت
1904 - 1955
مصنف
احمد رضا خاں بریلوی
1856 - 1921
حیرت الہ آبادی
1835 - 1892
حسرتؔ عظیم آبادی
1727 - 1795
جعفر علی حسرت
1734 - 1792
غمگین دہلوی
1753 - 1851
اجیت سنگھ حسرت
حضرت سلطان باہو
حضرت نظام الدین اولیا
1238 - 1325
ابو الحسنات حقی
لکی فاروقی حسرت
born.1990
رشید حسرت
born.1962
حیرت فرخ آبادی
born.1930
یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰتو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس
بے کاری امید سے فرصت ہے رات دنوہ کاروبار حسرت و حرماں نہیں رہا
چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیںہر ایک طرح سے خود کو جلا کے بیٹھے ہیں
راستہ گھیرے ہیں ارمان و قلق حسرت و یاسمیں ذرا بھیڑ ہٹا لوں تو چلے جائیے گا
بھری جو حسرت و یاس اپنی گفتگو میں ہےخدا ہی جانے کہ بندہ کس آرزو میں ہے
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
آرزؤں اور امیدوں کے ناکام ہونے کے بعد ان کی حسرت ہی بچتی ہے ۔ حسرت دکھ ، مایوسی ،افسوس اور احساس محرومی سے ملی جلی ایک کیفیت ہے اور ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں حسرت کی بیشتر صورتیں عشق میں ناکامی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس حسرت بھرے بیانیے کی اداسی کو محسوس کیجئے ۔
हसरत حَسْرَت
افسوس، پشیمانی
عربی
हैरत حَیرت
تعجّب، حیرانی، اچنبھا، بھوچکّاپن
हराओ ہَراؤ
شکست دینا، ہرانا
हैरती حَیرَتی
حیرت زدہ، حیران
مکتوبات حضرت علی
حضرت علی
خط
دیوان حضرت علی
دیوان
حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز
شبیر حسن چشتی نظامی
سوانح حیات
حضرت غوث الاعظم سوانح وتعلیمات
میکش اکبرآبادی
قادریہ
حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی
نامعلوم مصنف
میر امن دہلوی حیات و تالیفات
نفیس جہاں بیگم
علامہ اقبال: حیات و خدمات
نعیم انیس
مقالات/مضامین
عرش بلاغت
زبان
مرزا فرحت اللہ بیگ
عبد الحئی صدیقی
تنقید
مثنوی حضرت شمس تبریز
شمس تبریزی
مثنوی
کلیات حسرت
عبدالقدیر صدیقی
سوانح عمری حکیم لقمان
مرزا حیرت دہلوی
ابیات باہو
شاعری
ایرانی کوک شاستر
عظمت علی حسرت لکھنوی
جنسیات
سلطان الشہداء حضرت سید سالار مسعود غازی
ظفر احسن بہرائچی
کہتے ہیں اک فریب مسلسل ہے زندگیاس کو بھی وقف حسرت و حرماں بنا دیا
حسرتو دیکھو یہ ویرانۂ دلاس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں
حسرت و یاس کے گمبھیر اندھیرے میں بھلاایک نازک سی کرن ساتھ کہاں تک دیتی
رنج و غم ہوں کہ حسرت و ارماںمطمئن ہوں تری عطاؤں سے
عذاب حسرت و آلام سے نکل جاؤمری سحر سے مری شام سے نکل جاؤ
حسرت و یاس و غم سبھی دل میںآتے ہیں اک خوشی نہیں آتی
حسرت و تمنا کےآنسوؤں سے نم لیکن
خانۂ جاں میں نمودار ہے اک پیکر نورحسرتو آؤ رخ یار کا جلوہ دیکھو
حسرت و یاس کا انبوہ فغاں کی کثرتمیں تری بزم سے کیا با سر و ساماں نکلا
مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزارہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
غیرت نے حسرتو کا گریباں پکڑ لیاہم لوٹ آئے عرض تمنا کیے بغیر
اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگاب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگ
بک نہ سکیں گے حسرت و ارماںاونچی سجی دکانوں میں
وصل و فراق و حسرت و امید سے کھلاہم راہ ہے ہر ایک بقا کے فنا غرض
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books