aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hilaane"
ہلال فرید
born.1959
شاعر
ہلال بدایونی
born.1985
قمر ہلالی
مصنف
حنانہ برجیس
born.1975
ہلال سیوہاروی
1928 - 2012
ہلال نقوی
born.1950
ہلال جعفری
ہلال رضوی
ہلال احمد شاہ
حکیم ہلال اکبری
ہیلن فیرس
مدیر
الہلال بک ڈپو، دہلی
ناشر
مطبۃ الہلال، مصر
امانت ہلال
جان اییس، ہائی لینڈ
پرسش حال کو تم آؤ گے اس وقت مجھےلب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں
آسماں ہے خموشئ جاویدمیں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
میں دم ہلانے کے سوا کیا کر سکتا ہوں
وہ بولا دم کے دبانے کو بزدلی نہ سمجھجگہ کہاں ہے یہاں دم تلک ہلانے کی
کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تلا ہےمیں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے
हिलने ہِلْنے
ہلنا (رک) کی مغیرہ حالت (تراکیب میں مستعمل
हिलाना ہِلانا
حرکت دینا، جنبش دینا
ہندی
हिलानी ہِلانی
کسی مائع کو ہلانے کا آلہ، کفگیر، چمچہ، ڈنڈی
जी हिलाना جی ہِلانا
دل کو تڑپا دینا ؛ بے قرار کر دینا.
میر تقی میر
سید امیر حسن نورانی
شاعری تنقید
جامع القواعد
ابواللیث صدیقی
زبان
الہلال
ابوالکلام آزاد
رسالے
پاکستانی ادب- 1992
قمر جمیل
انتخاب
الہلال کے تبصرے
محمود الٰہی
تاثرات
نظیر اکبر آبادی
تاریخ راجستھان، حالات مارواڑ
کپتان جیمس ٹاڈ
تاریخ
ہلال محرم
شیخ ابوالقاسم
مرثیہ
خم خانۂ تصوف
ظہور الحسن شارب
تذکرہ
بابا شیخ فرید الدین گنج شکر
گور بچن سنگھ طالب
ملفوظات
دیوان میر
علی سردار جعفری
ادبی سی پارے
خلیل الرب
غیر افسانوی ادب
ائمۂ اربعہ
ابوالعرفان ندوی
سوانح حیات
خیابان ادب
عظیم الحق جنیدی
یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہےمیں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا
کچے پکے آم سہم سے جاتے ہیںجب بھی چڑیا شاخ ہلانے لگتی ہے
قادری نے ڈانٹ کچھ ایسی پلائی شیر کوشیر مسلم لیگ کا تھا دم ہلانے سے گیا
ملا تھا پوسٹ پہ کسٹم کا اک بڑا افسرذرا سی گھاس جو ڈالی تو دم ہلانے لگا
وہ آئے دم نزع کیا کہہ سکیںنہیں ہونٹ تک بھی ہلانے کے قابل
ہم سے کہتے ہیں ذرا اور ہلاؤ دم کودم ہلانے کا سلیقہ نہیں آتا تم کو
آسماں پہ جا بیٹھے یہ خبر نہیں تم کوعرش کے ہلانے کو ایک گناہ کافی ہے
طوفانوں میں ہاتھ ہلانے والوں کوساحل پہ اک بار بلا میرے مولا
چوڑے دہانے والیواور دم ہلانے والیو
یاد آتا رہا تا دیر سفر میں مجھ کوہاتھ رہ رہ کے دریچے سے ہلانے والا
اس سے تجدید تمنا کی ہوا آتی ہےدم ہلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
وقت کے آگے سپر ڈالے ہوئے کون ہیں یہہم تو تھے وقت کی بنیاد ہلانے والے
اب نہیں آئیں گے زنجیر ہلانے والےاپنے ہی نام سے اب خود پکارا جائے
لب ہلانے نہیں پاتا وہ کہ ہم نادیدہبس وہیں بات کے آغاز میں مر جاتے ہیں
کبھی میرے قربان ہوتے رہیکبھی مجھ کو پنکھا ہلانے لگے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books