aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "indorii"
راحت اندوری
1950 - 2020
شاعر
آتش اندوری
born.1977
نور اندوری
اختر انصاری
1909 - 1988
حنیف دانش اندوری
born.1971
مکیش اندوری
born.1980
سحر انصاری
born.1939
اندرا ورما
born.1940
اسلم انصاری
خورشید اکبر
born.1959
عمر انصاری
1912 - 2005
آزاد انصاری
1871 - 1942
عابد اللہ غٓازی
1936 - 2021
اختر انصاری اکبرآبادی
1920 - 1985
صادق اندوری
born.1917
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلودھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
دوستی جب کسی سے کی جائےدشمنوں کی بھی رائے لی جائے
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
“اس انتخاب میں ”امید عنوان کے تحت مختلف شعرا کی تخلیق کردہ نظمیں شامل کی گئی ہیں، جن کو پڑھنے سے نہ صرف ان شعرا کی تخلیقی جہات کا پتہ چلتا ہے بلکہ زندگی کی ناہمواریوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔
نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔
“اس انتخاب میں ”تنہائی عنوان کے تحت مختلف شعرا کی تخلیق کردہ دس ایسی نظمیں شامل کی گئی ہیں جو انسان کے اندر اور باہر ہر دو طرح کی تنہائیوں کو سمیٹے ہوئے ہیں، جن کو پڑھنے سے داخلی کرب اور اکیلے پن کے تمام زاویے سامنے آ جاتے ہیں۔
अंदारी اَن٘داری
اندھیری، جو تاریک ہو
ऐंद्रि ایندری
इंद्र का पुत्र।
سنسکرت
इन्द्री اِنْدْری
تنقیہ بذریعۂ جماع۔
ऐंद्री اِینْدْری
رک: اندری.
لمحے لمحے
طارق شاہین
شاعری تنقید
اردو غزل مختلف دور میں
عزیز اندوری
غزل تنقید
مجسم غزل
مجموعہ
سلام مچھلی شہری: شخصیت اور فن
غزل کہہ رہا ہوں
کلیات شاداں اندوری
رشید شادانی اندوری
کلیات
کاش
کاشف اندوری
سوانح حیات
تنقیدی تحریریں
نیگیٹیو سے پازیٹیوتک
ترنگ
نظم
نشید
شاعری
کوزے میں دریا
لہریں
ڈرامہ
تنقیدی احتساب
خاکہ: تاریخ و تنقید
قصر سخن
قیصر اندوری
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسےوہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گےکم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے
نئے کردار آتے جا رہے ہیںمگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پرجو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں
صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئےاے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے
وہ اک کتاب جو منسوب تیرے نام سے ہےاسی کتاب کے اندر کہیں کہیں ہوں میں
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیںاتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books