aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qabl-e-safar"
کونسا دور آ گیا صاحبشعر محدود قافیوں تک ہے
جل رہے ہیں سوزش منظر سے پاؤںگو سفرؔ سارا خیالی ہے ابھی
اب کون یہ سمجھے گا سفرؔ بر سر مقتلہم لرزہ بر اندام ہیں یا جھوم رہے ہیں
اک یاد سر شام سفر کرتی رہے گیاور قریۂ جاں کوئے بتاں ہوتا رہے گا
سنو گریز کرو آج کچھ بھی کہنے سےعجیب وقت کے دھارے بدل رہے ہیں ابھییہ گردشوں کے تماشے ہتھیلیوں کے فریبشکستہ ذات کے حیرت گزیدہ گوشوں کوبتا رہے ہیں ستارے بدل رہے ہیں ابھیابھی تو صبر کے خیموں کی ان طنابوں کوبریدگی لیے ہاتھوں سے تھامنا ہوگاابھی تو باد مخالف کے ان تھپیڑوں کوبکھرتی خاک کے ذروں سے روکنا ہوگاسنو گریز کرو آج کچھ بھی کہنے سےیہ لمحہ ساعت بے اختیار ہے جاناںیہاں گماں کے قبیلے یقیں کو ڈھاتے ہیںیہی ہے مقتل بے آب ریگ دشت بلاجہاں پہ تشنہ لباں ایڑیاں رگڑتے ہوئےکسی کے عشق میں دنیا سے ہارے جاتے ہیںسنو گریز کرو آج کچھ بھی کہنے سےکہ آج دھوپ کا لہجہ بھی انتقامی ہےچھپا لو ہاتھ سے چہرے کی وحشتوں کے نقوشکہ اب ہدف ہی اجالے کا بے نقابی ہےسپیدیٔ سحری سے گریز پا ناچارسیاہیٔ شب ویراں میں ڈھلتے جاتے ہیںدعا دعا کی صداؤں سے دم الجھتا ہےکہ اب تو ہاتھ بھی کشکول ہوتے جاتے ہیںسنو گریز کرو آج کچھ بھی کہنے سےسنو کہ زہر کے پیالے چھلک رہے ہیں ابھیاٹھانا جن کو وفاؤں کا فرض ہوتا ہےیہ ہم جو پلکوں پہ آنسو سجائے پھرتے ہیںیہ زندگی کی بہاروں کا قرض ہوتا ہےسنو سکوت کے پہلو تلاشتی ہے حیاتابھی سروں سے گزرنے دو ان غباروں کوٹھہرنے دو ابھی بے ربط آبشاروں کوجہان صوت و صدا خامشی کا طالب ہےسفرؔ زباں پہ کسی حرف کو جگہ نہ ملےیہاں کلام نہیں بس سکوت واجب ہے
सफ़ा-ए-क़ल्बصفائے قلب
عربی
purity of heart
نوید سحر
کارل وین ڈورین
پراچین اردو
سید شبیر علی کاظمی
تاریخ
نصف صدی قبل کا سفرنامۂ حج
محمد حمید الدین سنبھلی
قسیم عشق ہے الفت لٹا لٹا کے سفرؔوجود نطفۂ شر کو مٹائے دیتا ہے
ڈھلتا جاتا ہوں ترے ساتھ سفرؔ کرتے ہوئےاور کیا مجھ سے تو اے وقت رواں چاہتا ہے
کسی کی یاد بھی عنوان بے وفائی تھیپڑے ہیں پاؤں میں قبل سفر بھی چھالے سے
سفر سے لوٹ آ واپس سفرؔ ابترے پیچھے ترا گھربار بھی ہے
سفر سے لوٹ آؤ گھر اب اپنےیوں تنہا کیا بھٹک کر کر رہے ہو
رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگییہ سوچ کر نہ سفینے کا بادبان گرا
پڑاؤ ڈالیں کہاں راستے میں شام ہوئیبھنور ہیں سامنے رخت سفر کہاں کھولیں
چند سانسیں ہیں مرا رخت سفر ہی کتناچاہئے زندگی کرنے کو ہنر ہی کتنا
اور کیا مجھ سے کوئی صاحب نظر لے جائے گااپنے چہرے پر مری گرد سفر لے جائے گا
نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھومثال نکہت گل محمل سفر باندھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books