aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tahii"
میر تقی میر
1723 - 1810
شاعر
طاہر فراز
1953 - 2026
عاصمہ طاہر
born.1990
ذہین شاہ تاجی
1902 - 1978
توقیر تقی
طاہر عظیم
born.1978
مرزا محمد تقی ہوسؔ
1766 - 1855
جعفر طاہر
1917 - 1977
میر طاہر علی رضوی
1840 - 1911
طاہر عدیم
born.1973
نخشب جارچوی
1920 - 1967
مفتی محمد تقی عثمانی
مصنف
یوسف تقی
1943 - 2017
آغا محمد تقی خان ترقی
born.1740
طاہر شہیر
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پرجدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا
میری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقیشیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی
کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملےہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے
جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
اس انتخاب میں سارہ شگفتہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی پانچ نظموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زندگی کی ناہمواریاں، انسانی نفسیات اور مختلف النوع جذبات و احساسات انفرادیت سے اجتماعیت میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور جو ہر پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں
थी تھی
was
रही رَہی
رہا کی تانیث، تراکیب میں مستعمل
فارسی
कही کَہی
کہا (رک) کا متبادل صیفہ تانیث ؛ تراکیب میں مستعمل.
आई آئی
آئی ہوئی، موصول شدہ
سنسکرت
کولمبو تجاویز سے چین کی پہلو تہی
پبلیکیشنز ڈویژن، دہلی
1963سیاسی
تہی دست
بدنام نظر
1979شاعری
بس یہی دل
ابو یحیی
2022
تہی دامن نہیں ہیں ہم
یوسف خالد
2024
دیوان میر
شاعری
رموز شاعری
تقی عابدی
2003تحقیق و تنقید
خواجہ احمد فاروقی
2015سوانح حیات
1973شاعری
मीर : ग़ज़लों के बादशाह
1955شاعری
ذکر میر
2011خود نوشت
ایک تھی سارا
امرتا پریتم
1994ترجمہ
سید امیر حسن نورانی
1957سوانح حیات
میر کی آپ بیتی
1996ترجمہ
کلیات میر
1941شاعری
فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر
محمد تقی امینی
1973مذہبیات
ابر نیساں یہ تنک بخشیٔ شبنم کب تکمیرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
پر سوز نظر باز و نکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند
نہ ہوگا ہمارا ہی آغوش خالیکچھ اپنا بھی پہلو تہی پائیے گا
وہی ہوا کہ تکلف کا حسن بیچ میں تھابدن تھے قرب تہی لمس سے بکھرتے ہوئے
بوند بھر اشک بھی ٹپکا نہ کسی کے غم میںآج ہر آنکھ کوئی ابر تہی لگتی ہے
عشق دریا ہے جو تیرے وہ تہی دست رہےوہ جو ڈوبے تھے کسی اور کنارے نکلے
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہیسن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
خیرات کیا وہ بھی جو موجود نہیں تھاتو نے تہی دستوں کی سخاوت نہیں دیکھی
نگاہ دوست سلامت کہ فیض گریہ سےبہت گہر ہیں مرے دامن تہی کے لیے
فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہیہیں بھرپور جب تک خزانے ترے
اس تہی دامنی کے عالم میںجو ملا ہے وہی بہت کچھ ہے
لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکنہمارے پہلو میں بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔدل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
نہ جاتے آپ تو آغوش کیوں تہی ہوتیگئے تو آپ نے پہلو سے جا کے مار دیا
ہوا میں اپنی تہی دامنی سے شرمندہکسی کی آنکھوں میں تھے یہ بڑے بڑے آنسو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books