aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chuke"
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیںسفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکےاور محبت وہی انداز پرانے مانگے
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکےروز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں
ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہمبزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہےجل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں کوکون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکےاب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
جو حالتوں کا دور تھا وہ تو گزر گیادل کو جلا چکے ہیں سو اب گھر جلائیے
دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
سبھی یاروں کے مقطع ہو چکے ہیںہمارا پہلا مصرعہ چل رہا ہے
کھو چکے ہم یقین جیسی شےتو ابھی تک کسی گمان میں ہے
تم لوٹنے میں دیر نہ کرنا کہ یہ نہ ہودل تیرگی میں گھیر چکے اور دیا جلے
ہم اپنے اپنے بکھیڑوں میں پھنس چکے ہوں گےنہ تجھ کو میرا نہ مجھ کو ترا پتا ہوگا
جونؔ کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاشاب کئی ہجر ہو چکے اب کئی سال ہو گئے
تجھ سے سو بار مل چکے لیکنتجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی
عشق جب تک نہ کر چکے رسواآدمی کام کا نہیں ہوتا
یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیںوہ اب چل چکے ہیں وہ اب آ رہے ہیں
میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتے ہومجھ کو اتنا جان چکے ہو تم بھی ناں
چور کر بھی چکے دل کے شیشے کو وہاپنی ہمت ہے پھر چوٹ کھاتے ہیں ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books