aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "google"
ڈھونڈ نکالوں گہرے سمندر سے کوئی نایاب خزانہیا گوگل پر سرچ کروں میں ہپی برتھ ڈے والا گانا
بھی موجود ہےشاید گوگل کرنا پڑے
میں نے فوراً گوگل اور وکیپیڈیا کے واسطے دینے شروع کئےبس پھر کیا تھا
اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توام
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پر
صبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرحشاخ خوں رنگ تمنا میں گل تر کی طرح
نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نےنہ کسی کے لب پہ گل سخن
وہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہےمہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ
لیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئے
مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی
انجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماں
پوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہے
سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئےپیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئے
یہیں ہم رنگ گلہائے حسیں رہتی تھی ریحانہؔمثال حور فردوس بریں رہتی تھی ریحانہؔ
جاگ اٹھے صور سرافیل سے گونگے بہرےتا ابد جن کے مقدر میں تھی دنیا اندھیر
کتنے چوکوں سے،کتنے گونگے مجسموں سے، گزر گیا ہوں
لوگ گونگے ہیں بیاباں میں اذاں کیسے ہولوگ قاتل ہیں علاج غم جاں کیسے ہو
کھلی فضا کی دھوپ وہ کہ جسم سانولے کرےبتان آذری کہ مست غسل آفتاب تھے
مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤںبات کہنے کے بہانے ہیں بہت
چھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سےرواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books