افسانے

پاکستان کے نامور افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس۔

1919 -1998

نئے افسانہ نگاروں میں ممتاز، غیر معمولی سماجی مشاہدے سے ترتیب پانے والی کہانیوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

1964

پاکستان کے اہم افسانہ نویس،ناول نگار اور مترجم ۔ تقسیم کے بھیانک تجربے سے گزرے اور اس پس منظر میں کئی غیر معمولی کہانیاں لکھیں۔

1908 -1987

پاکستان کے معروف افسانہ نگاروں میں شامل، سیاسی جبر کےماحول میں تمثیلی اور علامتی انداز کی کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں

-2017

معاصر افسانہ نگاروں میں شامل۔ روز مرہ کی زندگی کے مسائل کو موضوع بنانے والی کہانیوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

1941 -1994

عصر حاضر کے معروف فکشن نویس، کمزور سماجی طبقے کی کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

1963

ممتاز افسانہ نگار اور مترجم،انگارےکے مصنفین میں شامل،پاکستان کی فارن سروس سے وابستہ رہے۔

1910 -1994

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

1916 -2006

ممتاز جدید شاعر اور افسانہ نگار، اردو میں نثری نظم کے اولین شاعروں میں شامل۔ اہم ادبی جریدے’تشکیل ‘ کے مدیر۔

1940 -2013

معروف تنقید نگار،محقق ،فکشن نویس اور شاعر ،اپنی رومانی نظموں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں ۔

1911 -1977

نامور ترقی پسند نقاد، ماہر لسانیات اور افسانہ نگار۔بنگلہ اور انگریزی سے بہت سے تراجم بھی کیے۔

1912 -1992

جدید معاشرتی مسائل کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف اہم افسانہ نگار۔

1957

نوجوان پاکستانی افسانہ نگاروں میں ممتاز۔

پاکستان کے نوجوان فکشن نویسوں میں ممتاز۔وجودی و نفسیاتی تجربوں کی کہانیاں لکھنے کے معروف۔

1987

پاکستان کے ممتاز فکشن نویس،ادیب دانشور اور شاعر

1932

معروف پاکستانی فکشن نویس۔ شدید تخلیقی تجربے کی کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

مابعد جدید افسانہ نگاروںمیں شامل۔

1946

فکشن نویس ، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی سے وابستہ اردو کے استاد۔

1967

ڈپٹی نذیز احمد کے خانوادے کے اہم فرد، نامور افسانہ نگار ، صحافی اور مترجم۔ اپنے کتاب’دلی کی چند عجیب ہستیاں‘ کے لیےمعروف۔

1905 -1990

ممتاز پاکستانی فکشن نویس،اپنی کہانی ’گڈریا ‘ کے لیے مشہور۔

1925 -2004

ممتاز جدید افسانہ نگاروں میں شامل،اپنی ادبی صحافت کے لئے معروف۔

1959 -2020

اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں شامل۔ ہندوستانی معاشرت اور اساطیر کی حامل کہانیاں لکھنے کے لیے معروف، قدیم ہندی شاعری کے اردو تراجم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔

1898 -1955

معاصر افسانہ نگاروں میں شامل۔

1960

معروف خاتون افسانہ نگار۔ پاکستانی سماج میں خواتین کے گمبھیر مسائل کو موضوع بنانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

1929 -2018

گہرے سماجی شعور کی حامل کہانیاں لکھنے کے لیے جانی جاتی ہیں

1955

ممتاز افسانہ نگار، جدید شہری زندگی کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کو موضوع بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں

1942 -2001

ممتاز ترین جدید افسانہ نگار، ناول نویس اور مصور، تجریدی اور علامتی انداز کی تحریروں کے لیے معروف۔ مشہور ناول’ خوشیوں کا باغ‘ کے مصنف۔

1935 -2019

معروف فکشن نویس اور صحافی، اپنے ناول ’ذلتوں کے اسیر‘ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لمبے عرصے تک بی بی سی اردو سے وابستہ رہے۔

ممتاز جدید فکشن رائٹر، وجودی مسائل پر علامتی انداز کی کہانیاں لکھنے کے لیے مشہور۔

1924 -2000

مابعد جدید افسانہ نگار، سماج کے کمزور طبقے کی کہانیاں لکھنے کے لیے مشہور۔

1941

مقبول افسانہ نویس اور ڈرامہ نگار، رومانی انداز کی تحریروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

1928 -2011

افسانہ نگار اور ناول نویس ، حساس سماجی موضوعات پر کہانیاں لکھنے کے لیے معروف۔ ساہتیہ اکادمی اعزاز یافتہ ۔

1952

ممتاز ترین فکشن نویس، اپنے ناول ’اداس نسلیں‘ کے لیے معروف۔

1931 -2015