Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sahil Sahri's Photo'

ساحل سحری

1949 - 2012 | نینیتال, انڈیا

معروف شاعر، گہرے شعور اور جدید شعری حسیت کے لیے معروف

معروف شاعر، گہرے شعور اور جدید شعری حسیت کے لیے معروف

ساحل سحری کے اشعار

2.8K
Favorite

باعتبار

میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر

سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا

تمہاری یاد سکوں کا سبب تو ہے لیکن

تمہاری یاد سے تنہائی کم نہیں ہوتی

مفلسی میں کیا منائی جائیں خوشیاں عید کی

دل میں نشتر بن کے چبھتی ہیں سویاں عید کی

نیا چہرہ نیا لہجہ نیا مضمون دیتے ہیں

غزل کہتے ہیں ہم جب بھی غزل کو خون دیتے ہیں

بچوں کی ضد واپس لائی ہنسنے ہنسانے والوں میں

برسوں بعد ہوئے ہم شامل عید منانے والوں میں

میں ایسے شہر کے بازار میں سجا کہ جہاں

مجھے خریدنے والوں کی جیب خالی ہے

رفتہ رفتہ وقت انجام سفر آ جائے گا

راستے جب ختم ہو جائیں گے گھر آ جائے گا

زندگی سے گفتگو کے رابطے کٹ جائیں گے

اتنا مت چلاؤ ورنہ پھیپھڑے پھٹ جائیں گے

میرا ہمدرد اگر ہے تو عدو کس کا ہے

کچھ پتہ تو چلے کس رنگ میں تو کس کا ہے

زندگی کے موسموں کی برق رفتاری تو دیکھ

اڑ رہے ہیں عمر کے دن رات پتوں کی طرح

اپنے وطن کی چھوڑ کے مٹی نہیں گئے

اچھے وہی رہے جو کراچی نہیں گئے

Recitation

بولیے