ساحل سحری کے اشعار
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر
سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
تمہاری یاد سکوں کا سبب تو ہے لیکن
تمہاری یاد سے تنہائی کم نہیں ہوتی
مفلسی میں کیا منائی جائیں خوشیاں عید کی
دل میں نشتر بن کے چبھتی ہیں سویاں عید کی
نیا چہرہ نیا لہجہ نیا مضمون دیتے ہیں
غزل کہتے ہیں ہم جب بھی غزل کو خون دیتے ہیں
بچوں کی ضد واپس لائی ہنسنے ہنسانے والوں میں
برسوں بعد ہوئے ہم شامل عید منانے والوں میں
میں ایسے شہر کے بازار میں سجا کہ جہاں
مجھے خریدنے والوں کی جیب خالی ہے
رفتہ رفتہ وقت انجام سفر آ جائے گا
راستے جب ختم ہو جائیں گے گھر آ جائے گا
زندگی سے گفتگو کے رابطے کٹ جائیں گے
اتنا مت چلاؤ ورنہ پھیپھڑے پھٹ جائیں گے
میرا ہمدرد اگر ہے تو عدو کس کا ہے
کچھ پتہ تو چلے کس رنگ میں تو کس کا ہے
زندگی کے موسموں کی برق رفتاری تو دیکھ
اڑ رہے ہیں عمر کے دن رات پتوں کی طرح