Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Usama Zoraiz's Photo'

اسامہ ضوریز

1994 | لاہور, پاکستان

اسامہ ضوریز کے اشعار

366
Favorite

باعتبار

جو تری جستجو میں چھوڑ دیا

اس کا نعم البدل تو تو بھی نہیں

تیرے ہوتے بھی سب خراب ہی تھا

اور پھر آج کل تو تو بھی نہیں

اس کا بچھڑنا لے گیا حس مزاح تک

ہنسنے کی بات کرتا ہوں ہنستا کوئی نہیں

ہم لوگ تیری خوشیوں میں شامل تو ہوں گے دوست

ظاہر ہے غم بھی بیچ میں حائل تو ہوں گے دوست

جس قدر رونے کی عادت ہے وہ دن دور نہیں

لوگ بلوائیں گے مرنے پہ مجھے رونے کو

ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں

وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو

تمہارا ملنا تو پہلے بھی کتنا مشکل تھا

اور اب کی بار تو حالات بھی خراب ہوئے

ترے نہ آنے کا سن کر بہت اداس ہوا

وہ آدمی جو ترے انتظار میں بھی نہ تھا

ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو

اسے دیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے

تمہارے ساتھ تو سورج ابھرتا دیکھتے تھے

تمہارے بعد سبھی دوست جلدی سونے لگے

جو رو رہے ہوں ان کی خوشی میں شریک ہوں

جو ہنس رہے ہوں ان کو دلاسا دیا کریں

معصوم تھا میں پھر بھی سزا کر دیا اس نے

اچھے بھلے قیدی کو رہا کر دیا اس نے

یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں

یہ دکھ کی بات ہے کہ کسی کا کوئی نہیں

آواز جس کی پیاری ہے ملنے چلیں اسے

سنتا نہیں کسی کی مگر بولتا تو ہے

پھول اس واسطے کھلتا ہے کہ تو دیکھے اسے

موسم اس واسطے اچھا ہے کہ تو سیر کرے

ہمارے اشک ترے پاؤں تک بھگونے لگے

بلوچ ہوتے ہوئے بھی کسی کو رونے لگے

وہ مجھ میں بھر گیا ہے محبت کے نام پر

اک رنگ جس کا آب و ہوا کچھ نہ کر سکے

وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا

جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا

کیوں آج تجھے دیکھ کے محسوس ہوا ہے

دیکھا ہے کسی اور نے آئینہ ہمارا

اب دل میں ہوس نام کی گندم نہیں اگتی

یہ کھیت عجب سیم زدہ کر دیا اس نے

Recitation

بولیے