noImage

نامعلوم

30.56K
Favorite

باعتبار

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف

ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

جان لینی تھی صاف کہہ دیتے

کیا ضرورت تھی مسکرانے کی

تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیں

کس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا

چاند کی عید ہو گئی ہوگی

اگر وہ پوچھ لیں ہم سے تمہیں کس بات کا غم ہے

تو پھر کس بات کا غم ہے اگر وہ پوچھ لیں ہم سے

she should just inquire, what causes me this pain

were she to ask this question, no ache would then remain

she should just inquire, what causes me this pain

were she to ask this question, no ache would then remain

نشیمن پر نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا

کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بے زار ہو جائے

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

عیش کے یار تو اغیار بھی بن جاتے ہیں

دوست وہ ہیں جو برے وقت میں کام آتے ہیں

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل

جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن

بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے

تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کر کے

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ

بخش دینا تو تیری فطرت ہے

I keep on sinning as I do believe

it is your nature to grant reprieve

I keep on sinning as I do believe

it is your nature to grant reprieve

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو

تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

دل میں طوفان ہو گیا برپا

تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

زندگی کے اداس لمحوں میں

بے وفا دوست یاد آتے ہیں

In life's sad moments one tends

to recall the faithlesness of friends

In life's sad moments one tends

to recall the faithlesness of friends

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہم

اور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہم

A kiss is all that I aspire for

I would be guilty if I ask for more

A kiss is all that I aspire for

I would be guilty if I ask for more

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے

کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں

کام دنیا کے بہ دستور کیے جاتے ہیں

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے

رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ

اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

عشق کی ہر داستاں میں ایک ہی نکتہ ملا

عشق کا ماضی ہوا کرتا ہے مستقبل نہیں

in every tale of love is a common theme to wit

love only has a past but no future's there for it

in every tale of love is a common theme to wit

love only has a past but no future's there for it

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے

ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سے

گناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھا

یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے

ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر

آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

کتابیں بھی بالکل میری طرح ہیں

الفاظ سے بھرپور مگر خاموش

سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے

مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو

جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

اندھیری رات کو میں روز عشق سمجھا تھا

چراغ تو نے جلایا تو دل بجھا میرا

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا

وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں