noImage

نامعلوم

65.4K
Favorite

باعتبار

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنی

مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے

how can I, to anyone, my needs and wants project

help I may receive or not, will lose my self-respect

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا

چاند کی عید ہو گئی ہوگی

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

جان لینی تھی صاف کہہ دیتے

کیا ضرورت تھی مسکرانے کی

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیں

کس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف

ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

اگر وہ پوچھ لیں ہم سے تمہیں کس بات کا غم ہے

تو پھر کس بات کا غم ہے اگر وہ پوچھ لیں ہم سے

she should just inquire, what causes me this pain

were she to ask this question, no ache would then remain

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے

دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل

جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ

بخش دینا تو تیری فطرت ہے

I keep on sinning as I do believe

it is your nature to grant reprieve

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو

تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

عید آئی تم نہ آئے کیا مزا ہے عید کا

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے

کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے

ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے

عیش کے یار تو اغیار بھی بن جاتے ہیں

دوست وہ ہیں جو برے وقت میں کام آتے ہیں

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن

بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

کتابیں بھی بالکل میری طرح ہیں

الفاظ سے بھرپور مگر خاموش

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

دل میں طوفان ہو گیا برپا

تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہم

اور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہم

A kiss is all that I aspire for

I would be guilty if I ask for more

فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سے

گناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھا

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا

میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے

رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ

اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر

آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے

تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کر کے

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

زندگی کے اداس لمحوں میں

بے وفا دوست یاد آتے ہیں

In life's sad moments one tends

to recall the faithlesness of friends

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں

باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے

ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا

غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے

ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی

ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی

شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے

یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے