Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 1737

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

میر انیس

1803 - 1874

لکھنؤ کے ممتاز ترین کلاسیکی شاعروں میں شامل، عظیم مرثیہ نگار

میر حسن

1717 - 1786

مثنوی کے انتہائی مقبول شاعر، 'سحر البیان' کے خالق

ملا عبد القادر بدایونی ٹوڈا بھیون (بساور، بھرت پور) راجستھان کے گاوں میں شیر شاہ سوری کے عہد میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے ننہال بساور میں حاصل کی۔ وہ، اکبر کے یہاں بدھ کے دن کے امام اور ایک اہم مترجم بھی تھے اس کے علاوہ متعدد خدمات انجام دیں۔ ان کی شہرت ان کے ترجموں اور خاص طور پر ان کی تاریخی کتاب "منتخب التواریخ" یعنی تاریخ بدایونی سے ہے۔ جس سے اکبر کے دین الہی سے متعلق وہ معلومات فراہم ہوتی ہے جو اس دور کی دیگر کتب میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

شاعر، فکشن نگار اورایک نمایاں اردو تنقید نگار

ممتاز مابعد جدید شاعر، 1996میں اچانک لاپتہ ہوگئے

بیسوی صدی کی اہم علمی شخصیت، مصنف، مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نویس۔ لکھنؤ کی سماجی و تہذیبی زندگی کے رمز شناس

نامور نقاد، محقق، شاعر، مضمون نگار، مفکر، قانون دان اور ماہر تعلیم

اردو میں طنز و مزاح کے سب سے بڑے شاعر ، الہ آباد میں سیشن جج تھے

معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور نقاد۔ اپنے افسانہ 'میلہ گھومنی' کے لیے مشہور

ممتاز شاعر، معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

ممتاز ما بعد جدید شاعر، رسالہ’دائرے‘ کے مدیر

ممتاز قبل از جدید شاعر، صوفیانہ رنگ کی شاعری کے لیے معروف

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

لکھنؤ کے نامور شاعر، مرزا دبیر کے صاحبزادے، علم عروض پر اپنی کتاب’مقیاس الاشعار‘ کے لیے بھی معروف

صوفی شاعر ، حمد ونعت کی شاعری کے لئے معروف

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

لکھنؤ کی کلاسیکی شعری روایت کے ممتاز اور نمائندہ شاعر، مشہور ادیب امانت لکھنوی کے فرزند

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

ممتاز ترقی پسند فکشن نویس اور صحافی - غزل مخالف خیالات کے لیے معروف

لکھنو کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر,مرزا غالب کے ہم عصر

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

جدید اردو نظم کے معماروں میں شامل اور بچوں کی شاعری کے لئے مشہور

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف

اپنی شاعری میں محبوب کے ساتھ معاملہ بندی کےمضمون کے لیے مشہور،نوجوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے

کبیر

1440 - 1518

قرون وسطی کے بھکتی ادب کی نرگنا روایت کے ممتاز سنت اور شاعر۔ ذات پات اور اچھوت پر اپنے باغیانہ خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں۔

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں نمایاں

ماہر لسانیات،میر تقی میر اور میر درد کے استاد

19ویں صدی کے شاعر

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

اردو کے دو بڑے مرثیہ گو شاعروں میں شامل

شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف

معروف کلاسیکی شاعر جنہوں نے 1857 کے غدر میں حصّہ لیا

مشہور و معروف ناول نگار اور شہر لکھنؤ سے نکلنے والےمشہور ہفت روزہ اودھ پنچ کے مدیر

صاحبِ اسلوب افسانہ نگار، محقق اور 'طاؤس چمن کی مینا' کے مصنف

نامور مورخ، ماہرِ عروض و لسانیات، اپنی کتاب 'بحر الفصاحت' سے مشہور

اپنے شہرۂ آفاق شعر 'کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت…' کے لئے مشہور

رامپور دبستانِ شاعری کے ممتاز شاعر، مرزا غالب نے "میرِ رامپور" کے لقب سے یاد کیا

ممتاز شاعر، فارسی و اردو کے عالم، مثنویِ مولانا روم کے مترجم، دلکش ترنم کے حامل، مشاعروں میں بے حد مقبول رہے

انیسویں صدی میں لکھنؤ کے ممتاز ترین شاعروں میں شامل، مشہور مثنوی گلزارِ نسیم کے خالق

پریم چند

1880 - 1936

اردو ہندی کے پہلے پختہ فکشن نگار، جنہوں نے ناول اور کہانی کے ذریعے سماجی سروکار کو فنی اظہار دیا۔

صاحبِ اسلوب فکشن نگار، صحافی اور 'لیلیٰ کے خطوط' و 'مجنوں کی ڈائری' کے مصنف

بولیے