یوم خواتین پر شاعری

عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

اسرار الحق مجاز

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

ساحر لدھیانوی

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

افتخار عارف

بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے

میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے

اسرار الحق مجاز

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

حمیدہ شاہین

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس

رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

منیر نیازی

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ساجد سجنی

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا

اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

تنویر سپرا

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

علامہ اقبال

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات

مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

فرحت احساس

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی

زہرا نگاہ

یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتی ہیں

طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

مینا نقوی

عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

نیلما سرور

تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں

سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں

حبیب جالب

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

انجم سلیمی

عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر

جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

فرحت احساس

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک

مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

عورت ہو تم تو تم پہ مناسب ہے چپ رہو

یہ بول خاندان کی عزت پہ حرف ہے

سیدہ عرشیہ حق

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ

وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

شکیل جمالی

تم بھی آخر ہو مرد کیا جانو

ایک عورت کا درد کیا جانو

سیدہ عرشیہ حق

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

زہرا نگاہ

ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کا

مگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر

عزیز فیصل

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

قتیل شفائی

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

فرحت زاہد

خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے

ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن

خدا نے گڑھ تو دیا عالم وجود مگر

سجاوٹوں کی بنا عورتوں کی ذات ہوئی

عبد الحمید عدم

دیکھ کر شاعر نے اس کو نکتۂ حکمت کہا

اور بے سوچے زمانہ نے اسے عورت کہا

شاد عارفی

قصۂ آدم میں ایک اور ہی وحدت پیدا کر لی ہے

میں نے اپنے اندر اپنی عورت پیدا کر لی ہے

فرحت احساس

نکل کے خلد سے ان کو ملی خلافت ارض

نکالے جانے کی تہمت ہمارے سر آئی

نامعلوم

جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم

جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو

رضیہ فصیح احمد

شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بت ہے

گونگا ہی سہی پھر بھی دل آویز بہت ہے

کرشن ادیب