Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وفا پر اشعار

وفا پر شاعری بھی زیادہ

تر بے وفائی کی ہی صورتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ وفادارعاشق کے علاوہ اور ہے کون ۔ اور یہ وفادار کردار ہر طرف سے بے وفائی کا نشانہ بنتا ہے ۔ یہ شاعری ہم کو وفاداری کی ترغیب بھی دیتی ہے اور بے وفائی کے دکھ جھیلنے والوں کے زخمی احساسات سے واقف بھی کراتی ہے ۔

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

احمد فراز

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

تم کہا کرتے تھے کہ ہم وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے اور تمہاری بات مانیں گے۔

تمہیں یاد ہے نا کہ یہ باتیں کس کی زبان سے نکلی تھیں؟

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

داغؔ دہلوی

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

امیر مینائی

وفا اخلاص قربانی محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

جون ایلیا

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

تمہاری بے وفائی پر بھی میں اپنی جان نثار کیے بیٹھا ہوں۔

اگر تم وفادار ہوتے تو یہ مجھ پر قیامت بن جاتا۔

اس شعر میں عاشق ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ اسے محبوب کی بے وفائی بھی عزیز ہے، کیونکہ وہ اسی دکھ میں جینا سیکھ چکا ہے۔ اگر محبوب باوفا ہوتا تو قربت اور امید کی شدت ایسی ہوتی کہ برداشت نہ ہوتی۔ یوں محبت کی انتہا اور اپنے آپ کو مٹانے والی وابستگی نمایاں ہو جاتی ہے۔

میر تقی میر

وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا

جسے بت بنایا خدا ہو گیا

حفیظ جالندھری

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

حفیظ بنارسی

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

بہزاد لکھنوی

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

زمانے میں وفا اس طرح غائب ہو گئی جیسے اُڑ کر چلی گئی ہو۔

یوں لگتا ہے کہ وفا کبھی کسی کے دل میں تھی ہی نہیں۔

شعر میں زمانے کی مجموعی بےوفائی پر شکوہ ہے۔ “اڑ گئی” کا استعارہ وفا کو کسی نازک پرندے کی طرح دکھاتا ہے جو پکڑ میں نہیں آتا۔ شاعر کی کیفیت ایسی تلخ مایوسی ہے کہ وہ موجودہ کمی کو بھی ماضی کی نفی بنا دیتا ہے۔ مرکزی جذبہ بدگمانی اور شکستہ دلی ہے۔

داغؔ دہلوی

محبت عداوت وفا بے رخی

کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے

بشیر بدر

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا

مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

حفیظ جالندھری

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

افتخار عارف

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

قتیل شفائی

کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد

یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

امیر مینائی

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

الطاف حسین حالی

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پاؤں نازک

نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

خمار بارہ بنکوی

وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤ

وفا یاد رکھو ستم بھول جاؤ

کلیم عاجز

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اختر شیرانی

ہم نے بے انتہا وفا کر کے

بے وفاؤں سے انتقام لیا

آل رضا رضا

عشق پابند وفا ہے نہ کہ پابند رسوم

سر جھکانے کو نہیں کہتے ہیں سجدہ کرنا

آسی الدنی

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں

وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

حفیظ بنارسی

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

احمد مشتاق

برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا

یہ اٹھتے بیٹھتے ذکر وفا اچھا نہیں لگتا

آشفتہ چنگیزی

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا

مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا

عبد الحمید عدم

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا

بارہا آزما کے دیکھ لیا

اگر تم چلے بھی جاؤ تو مہر و وفا دکھا کر کیا حاصل ہوگا؟

میں نے بار بار آزما کر اس کا انجام دیکھ لیا ہے۔

اس شعر میں عاشق محبوب کے دعوائے مہر و وفا کو بے اثر قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ محبت اور وفاداری اب کوئی معنی نہیں رکھتیں، کیونکہ ان کو کئی بار پرکھ کر نتیجہ سامنے آچکا ہے۔ لہجہ تھکا ہوا، شکوہ آمیز اور فیصلہ کن ہے۔ بارہا آزمانا ایک طرح کی دلیل ہے کہ اب امید کی گنجائش نہیں رہی۔

داغؔ دہلوی

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف

کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گا

مجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گا

حسرتؔ موہانی

نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا

بے وفا آپ ہی کہلائیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ

مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

قتیل شفائی

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعر

جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی

سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا

فیض احمد فیض

یا وفا ہی نہ تھی زمانہ میں

یا مگر دوستوں نے کی ہی نہیں

اسماعیل میرٹھی

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا

مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

میں نے جتنی بھی کوشش کی، اُس بت نے کسی طرح مجھ پر اعتبار نہ کیا۔

میری وفاداری ہی آخرکار مجھے سخت شرمندہ کر گئی۔

اس شعر میں عاشق کی سچی وفا کے مقابل محبوب کی بےاعتمادی دکھائی گئی ہے۔ “بت” محبوب کی سنگدلی اور بےحسی کا استعارہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وفا جیسی خوبی بھی دلیل بننے کے بجائے عاشق کے لیے رسوائی کا سبب بن جاتی ہے۔ یوں درد باہر سے زیادہ اندر کی شکست کا ہے۔

داغؔ دہلوی

دوستی بندگی وفا و خلوص

ہم یہ شمع جلانا بھول گئے

انجم لدھیانوی

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

احسان دانش کاندھلوی

امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے

جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح

آتش بہاولپوری

فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے

جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

احمد ندیم قاسمی

وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں

تو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ

غلام محمد قاصر

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہ

اب وفاداری کی قسمیں تو نہیں کھائے گا وہ

اجمل سراج

اس بے وفا سے کر کے وفا مر مٹا رضاؔ

اک قصۂ طویل کا یہ اختصار ہے

آل رضا رضا

آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہ

بات میں بات نکل آتی ہے

درد اسعدی

جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی

ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے

عبد المجید سالک
بولیے